MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی مولوی ہو کہ پیر ہو، کوئی شیخ ہو کہ ہو چودھری

کوئی مولوی ہو کہ پیر ہو، کوئی شیخ ہو کہ ہو چودھرییہ قتیلِ "غمزہء چرچلی” وہ شہیدِ "جلوہء ڈالری” نہ اسے خیالِ منسٹری نہ اُسے "جنونِ گورنری”تری بارگاہ سے مل گئی جسے کوئی "مِل” کوئی "فیکٹری” یہ خدا کے نام پہ بن گئے جو خدا کے دین کے چودھریابھی کل کی بات ہے کر رہے […]

کوئی مولوی ہو کہ پیر ہو، کوئی شیخ ہو کہ ہو چودھری Read More »

انہیں تو نے بخشی ہیں کوٹھیاں تری شان جِلّ جلالہ

انہیں تو نے بخشی ہیں کوٹھیاں تری شان جِلّ جلالہمیں ہوں لالو کھیت میں لامکاں تری شان جِلّ جلالہ وہ کہ تیرے دین سے دور کا بھی نہیں جنہیں کوئی واسطہوہ ہیں تیرے دین کے پاسباں تری شان جِلّ جلالہ کوئی فاقہ کرکے بھی ہے مگن، کوئی دال بھات پہ مطمئنہیں کسی کے پیٹ میں

انہیں تو نے بخشی ہیں کوٹھیاں تری شان جِلّ جلالہ Read More »

عہدہ و منصب دلا جمہوریت کے نام پر

عہدہ و منصب دلا جمہوریت کے نام پرتخت پر مجھ کو بٹھا جمہوریت کے نام پر "آیتُ الکرسی” کا کرتا ہوں وظیفہ رات دنبخش کرسی اے خدا جمہوریت کے نام پر فاقہ کش لٹتے رہیں، پِٹتے رہیں، مٹتے رہیںمجھ کو ڈکٹیٹر بنا جمہوریت کے نام پر بھولی بھالی قوم کوئی اور مل سکتی نہیںقوم کو

عہدہ و منصب دلا جمہوریت کے نام پر Read More »

سینے میں دکھن ناک میں طوفان سا کیوں ہے

سینے میں دکھن ناک میں طوفان سا کیوں ہےنزلےسےہراک شخص پریشان سا کیوں ہے چھترول کی یہ کون سی منزل ہے پلسیوآئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے چھیناہےجومجھ سے وہ موبائل ہے کھلوناڈاکواسےاب دیکھ کے حیران سا کیوں ہے تھا ساٹھ برس پہلے جوگھرکوہ مری ساوہ آج مرے واسطے ملتان سا کیوں ہے

سینے میں دکھن ناک میں طوفان سا کیوں ہے Read More »

شعر اکبر کے گنگنا تو سہی

شعر اکبر کے گنگنا تو سہی"شدت غم پہ مسکرا توسہی رس کی پھواریں تبھی مزا دیں گیآم کو پہلے پلپلا تو سہی تیری جوتی ہی ٹوٹ جائے گیسرجھکاتاہوں آزما توسہی انگلیاں بیس اور شوہرایک انگلیوں پر اسےنچا تو سہی گلستاں بن ہی جائے گا عاصیروز اک گل نیاکھلا تو سہی مرزا عاصی اختر

شعر اکبر کے گنگنا تو سہی Read More »

فضل ربی کا درہی وا نہ ہوا

فضل ربی کا در ہی وا نہ ہواآپ کاقرض یوں ادانہ ہوا پھجاکب جانتاہےانگریزی"گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا دوسوالوں کے کارتوس لگے"حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا” وہ تواندرہیں زچہ خانےمیںاب مجھے کیا پتاہوانہ ہوا جب دیےان کوداغ کے دیوانتب مزاج ان کاعاشقانہ ہوا محفل شعر یوں رہی اچھیآج عاصی

فضل ربی کا درہی وا نہ ہوا Read More »

بلدیہ نے گروایا آج سائبان اپنا

بلدیہ نے گروایا آج سائبان اپنابھنگیوں کی زد میں ہے دوستو مکاں اپنا انگلیوں پہ ماراہےسرنےآج یوں ڈنڈا"انگلیاں فگار اپنی خامہ خوب چکااپنا” جان چھوٹ ہی جاتی اپنی قرض خواہوں سے"عرش سے ادھر ہوتاکاشکےمکاں اپنا” واہ کیا نرالاہےطرزانتخاب اس کانقش کردیامیرےگال پرنشاں اپنا "ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے”وہ تو فضل

بلدیہ نے گروایا آج سائبان اپنا Read More »

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصول ادھارہوتا

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصول ادھارہوتا"اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا " تری ویزالاٹری کویہ سمجھ کے جھوٹ جانا"کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا” یہ کہاں کا امتحاں ہے سبھی ممتحن ہیں ناصح"کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا” جواچھل کے ایک دم ہم ترے گیٹ پر چڑھتےیہ

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصول ادھارہوتا Read More »

یہ لیڈرپھریہاں آجارہےہیں

یہ لیڈرپھریہاں آجارہےہیںالکشن کے زمانے آرہے ہیں نئے نوٹوں کی بارش ہورہی ہےہراک ووٹرکووہ نہلارہے ہیں ہیں جیبیں گرم سارے ورکروں کیاب ان کادورہےاترارہےہیں وہ جن کی سوروپےاجرت تھی ڈیلیہزاروں میں دہاڑی لارہےہیں تھا جن کا دال دلیےپرگزاراوہ اب ککڑوغیرہ کھارہے ہیں پرانے ہی کہاں پورےکیےتھےنئےوعدے جووہ فرمارہےہیں چلوعاصی چلیں اب ووٹ دینےوہ اپنی کارلےکرآرہےہیں

یہ لیڈرپھریہاں آجارہےہیں Read More »