MOJ E SUKHAN

فضل ربی کا درہی وا نہ ہوا

فضل ربی کا در ہی وا نہ ہوا
آپ کاقرض یوں ادانہ ہوا

پھجاکب جانتاہےانگریزی
"گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

دوسوالوں کے کارتوس لگے
"حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا”

وہ تواندرہیں زچہ خانےمیں
اب مجھے کیا پتاہوانہ ہوا

جب دیےان کوداغ کے دیوان
تب مزاج ان کاعاشقانہ ہوا

محفل شعر یوں رہی اچھی
آج عاصی غزل سرانہ ہوا

مرزا عاصی اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم