MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زباں تو چپ ہی رہے گی بڑے وقار کے ساتھ

زباں تو چپ ہی رہے گی بڑے وقار کے ساتھ پہ حال اشک سنائیں گے اختصار کے ساتھ نہاں ہیں دل میں محبت فسانے تیرے تمام یہ عمر گزری ہے لیکن ترے ہی پیار کے ساتھ ہوئی ہے ان سے ملا قات بعد مدت کے کھلے ہیں پھو ل نئے موسم بہا ر کے ساتھ […]

زباں تو چپ ہی رہے گی بڑے وقار کے ساتھ Read More »

ہم بھر وسہ تیرے وعدے پہ کئے جائیں گے

ہم بھر وسہ تیرے وعدے پہ کئے جائیں گے ڈوب کر پیار میں اظہار کئے جائیں گے اس تغافل پہ نہیں ان سے کرم کی امید ہم تو مجبور ہیں اقرار کئے جائیں گے پا بجولاں بھی جنوں ہو؛وہ پکاریں تو سہیآگ دریا کو بھی ہم پار کئے جائیں گے ہم کو چاہت کے سمندر

ہم بھر وسہ تیرے وعدے پہ کئے جائیں گے Read More »

ید ملنے کا اِک بہانہ ہوا

ید ملنے کا اِک بہانہ ہواکاٹ کر جیب وہ روانہ ہوا لیڈری میں بھلا ہوا ان کا“بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا“ ایک مینڈھے پہ ہی نہیں موقوفتجھ پہ قربان اِک زمانہ ہوا ہے یہ اِک یادگار “ویول“ کی“لاڑکانہ“ سے “لڑکانہ“ ہوا یہ عوامی بنا رہے ہیں “لیگ“کیا مذاق ان کا عامیانہ ہوا جہاں رہتے

ید ملنے کا اِک بہانہ ہوا Read More »

بارش کا “لالو کھیت “ میں لشکر پھسل پڑا

بارش کا “لالو کھیت “ میں لشکر پھسل پڑاگویا “بحالیات“ کا دفتر پھسل پڑا ہر سمت تیرنے لگیں “منصوبہ بندیاں“بادل جو ہرطرف سے ہوا پر پھسل پڑا لاٹھی کو ٹیک کر جو ستوں کو کھڑا کیاچھجا ذرا رکا تھا کہ چھپر بھسل پڑا چُپ چاپ ایک جھگی جو پانی میں بہہ گئیاک جھونپڑا بھی شور

بارش کا “لالو کھیت “ میں لشکر پھسل پڑا Read More »

ہائے یہ کیسا غضب اے چشمِ پُر فن کردیا

ہائے یہ کیسا غضب اے چشمِ پُر فن کردیادل مرا مومن تھا جسکو تو نے میمن کردیا ظُلمتِ شب میں جلائے دل کے داغوں کے چراغعشق نے ہر اشک کو بادام روغن کردیا جلوہء تہذیبِ حاضر کی ترقی کے نثارمرد کو چھکڑا کیا عورت کو انجن کردیا کل کہا یہ ایک “مِس“ کے جلوہء بیباک

ہائے یہ کیسا غضب اے چشمِ پُر فن کردیا Read More »

سخت دشوار ہے “بیڑی“ کا “کونڈر“ ہونا

سخت دشوار ہے “بیڑی“ کا “کونڈر“ ہونابہت آساں ہے “منسٹر“ کا گورنر ہونا اس کو بزنس کی ضرورت نہ کسی سروس کیجس کی تقدیر میں ہو قوم کا لیڈر ہونا یہ “پرواڈگہہِ“ عالم میں قدم رکھنا ہےلوگ آسان سمجھتے ہیں “منسٹر“ ہونا طوقِ زرّیں ہمہ در گردنِ خرمی بینمبہتر اس دور میں انسان سے ہے

سخت دشوار ہے “بیڑی“ کا “کونڈر“ ہونا Read More »

الاٹ بنگلہ ہوا اور نہ کارخانہ ملا!

الاٹ بنگلہ ہوا اور نہ کارخانہ ملا!پناہ گیر کو فٹ پاتھ پر ٹھکانہ ملا جنابِ قیس کی صحرا نوردیاں نہ گئیںجو “منگھا پیر“ سے نکلا تو “لاڑکانہ“ ملا “ستارہ“ ڈانس میں لاکھوں روپے کما لائیجنابِ شیخ کو چندے میں ایک آنہ ملا ہر اک قدم پہ ملے راہزن بہت لیکنرہِ وفا میں ہمیں کوئی رہنما

الاٹ بنگلہ ہوا اور نہ کارخانہ ملا! Read More »

میں کہتا ہوں کہ “یہ کیا ہورہا ہے؟“

میں کہتا ہوں کہ “یہ کیا ہورہا ہے؟“وہ کہتے ہیں“ سب اچھا ہورہا ہے“ میں کہتا ہوں “گرانی بڑھ رہی ہےبہت دشوار جینا ہورہا ہے“ فقیرالدین کا ہے حال پتلاامیرالدین موٹا ہورہا ہے وہ کہتے ہیں “تمہاری کھوپڑی کایقینا“ پیچ ڈھیلا ہورہا ہے“ گرانی کی شکائت کر رہے ہو؟کرم یہ تو خدا کا ہورہا ہے

میں کہتا ہوں کہ “یہ کیا ہورہا ہے؟“ Read More »

چیختے ہیں مفلس و نادار آٹا چاہئے

چیختے ہیں مفلس و نادار آٹا چاہئےلکھ رہے ہیں ملک کے اخبار آٹا چاہئے از کلفٹن تابہ مٹروپول حاجت ہو نہ ہوکھارا در سے تابہ گولی مار آٹا چاہئے مرغیاں کھا کر گزارہ آپ کا ہوجائے گاہم غریبوں تو تو اے سرکار، آٹا چاہئے ہم نے پاؤڈر کا تقاضا سن کے بیگم سے کہاکیا کرو

چیختے ہیں مفلس و نادار آٹا چاہئے Read More »