MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ستارے میری محبت کے جب قطار میں تھے

ستارے میری محبت کے جب قطار میں تھےجمالِ فکر و تخیل بھی اختیار میں تھے میں اپنے گھٹنوں پہ آیا تو یہ کھلا مجھ پریہ میرے اپنے اسی کے تو انتظار میں تھے وہ خواب آج بھی زندہ ہیں میری آنکھوں میںدعائے نیم شبی جو ترے حصار میں تھے فصیلِ ہجر نے پیروں کے لے

ستارے میری محبت کے جب قطار میں تھے Read More »

محبت کر چکی ہے کام اپنا

محبت کر چکی ہے کام اپنامجھے معلوم ہے انجام اپنا نہیں اس مے کدہ میں کام اپناجہاں مے ہو پرائی جام اپنا محبت تو محبت ہی رہے گیضرورت کچھ بھی رکھ لے نام اپنا مقدر بھی بدلنا جانتے ہیںگزارش ہی نہیں ہے کام اپنا جو خود اپنی نظر سے گر چکے ہیںانہیں بھی گردش ایام

محبت کر چکی ہے کام اپنا Read More »

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گاپیار نادان کو مت دے کہ یہ مر جائے گا روش عام سے ہشیار کہ پچھتائے گاوقت کو چھوڑ یہ پانی ہے گزر جائے گا سچ کوئی فن تو نہیں ہے جو سکھایا جائےجھوٹ سے کام لے سچ بولنا آ جائے گا دو پہر حال غنیمت ہیں

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا Read More »