MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محبت کر چکی ہے کام اپنا

محبت کر چکی ہے کام اپنا
مجھے معلوم ہے انجام اپنا

نہیں اس مے کدہ میں کام اپنا
جہاں مے ہو پرائی جام اپنا

محبت تو محبت ہی رہے گی
ضرورت کچھ بھی رکھ لے نام اپنا

مقدر بھی بدلنا جانتے ہیں
گزارش ہی نہیں ہے کام اپنا

جو خود اپنی نظر سے گر چکے ہیں
انہیں بھی گردش ایام اپنا

تم اور یہ زحمت تجدید عالم
مجھی کو سونپ دیتے کام اپنا

پریشانی مقدر بن چکی ہے
پریشانی میں ڈھونڈ آرام اپنا

خدائی رخ بدلنا چاہتی ہے
مرے ماتھے پہ لکھ دو نام اپنا

زمانہ دے نہ دے پیغام انجمؔ
ضرورت خود کرے گی کام اپنا

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم