MOJ E SUKHAN

جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں

غزل

جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں
اب کے برس بہار کے آثار بھی نہیں

پیڑوں پہ اب بھی چھائی ہیں ٹھنڈی اداسیاں
امکان جشن رنگ کا اس بار بھی نہیں

دریا کے التفات سے اتنا ہی بس ہوا
تشنہ نہیں ہیں ہونٹ تو سرشار بھی نہیں

راہوں کے پیچ و خم بھی اسے دیکھنے کا شوق
چلنے کو تیز دھوپ میں تیار بھی نہیں

بچھڑے ہوؤں کی یاد نبھاتے ہیں جان کر
ورنہ کسی کو بھولنا دشوار بھی نہیں

جتنا ستم شعار ہے یہ دل یہ اپنا دل
اتنے ستم شعار تو اغیار بھی نہیں

اہل ہنر کے باب میں اس کا بھی ذکر ہو
فکریؔ کو ایسی بات پہ اصرار بھی نہیں

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم