MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے

غزل شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے پاؤں تلے جو موتی بکھریں جھلمل رستہ لگتا ہے جاڑے کی اس دھوپ نے دیکھو کیسا جادو پھیر دیا بے حد سبز درختوں کا بھی رنگ سنہرا لگتا ہے بھیڑیں اجلی جھاگ کے جیسی سبزہ ایک سمندر سا دور کھڑا وہ پربت نیلا خواب میں […]

شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے Read More »

رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا

غزل رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا شور کرتے تھے پرندے سو گئے اچھا ہوا کوئی آہٹ کوئی دستک کچھ نہیں کچھ بھی نہیں بھولی بسری اک کہانی ہو گئے اچھا ہوا ایک مدت سے ہمارے آئینے پہ گرد تھی آنسوؤں کے سیل اس کو دھو گئے اچھا ہوا بیکلی کوئی نہ تھی

رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا Read More »

احساس زیاں چین سے سونے نہیں دیتا

غزل احساس زیاں چین سے سونے نہیں دیتا رونا بھی اگر چاہوں تو رونے نہیں دیتا ساحل کی نگاہوں میں کوئی درد ہے ایسا موجوں کو مری ناؤ ڈبونے نہیں دیتا کیا جانیے کس بات پہ دشمن ہوا موسم سرسبز کسی شاخ کو ہونے نہیں دیتا لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہ

احساس زیاں چین سے سونے نہیں دیتا Read More »

کہاں کہاں سے گزر رہا ہوں

غزل کہاں کہاں سے گزر رہا ہوں میں آندھیوں میں بکھر رہا ہوں کسی بھی صورت نہ چین پاؤں یہ کس تجسس میں مر رہا ہوں میں سرخیوں میں کہاں سے ہوتا میں حاشیے کی خبر رہا ہوں سبھوں کو جانا ہے پار لیکن میں پار جانے سے ڈر رہا ہوں نہ میری منزل نہ

کہاں کہاں سے گزر رہا ہوں Read More »

پہاڑوں سے اترتی شام کی بے چارگی دیکھیں

غزل پہاڑوں سے اترتی شام کی بے چارگی دیکھیں درختوں پر لرز کر بجھ رہی ہیں آخری کرنیں بہت ہی سرد ہے اب کے دیار شوق کا موسم چلو گزرے دنوں کی راکھ میں چنگاریاں ڈھونڈیں بھلا پتھر بھی روتے ہیں کبھی شیشے کے زخموں پر اگر ہوتا ہے ایسا تو حساب دوستاں بھولیں سواد

پہاڑوں سے اترتی شام کی بے چارگی دیکھیں Read More »

بیدلؔ کا تخیل ہوں نہ غالب کی نوا ہوں

غزل بیدلؔ کا تخیل ہوں نہ غالب کی نوا ہوں اس قافلۂ رفتہ کا نقش کف پا ہوں رقصاں ہے چراغان تمنا مرے ہرسو وہ روشنیاں ہیں کہ میں سائے سے جدا ہوں جب دشت الم سے کوئی جھونکا کبھی آیا میں لالۂ خود رو کی طرح اور کھلا ہوں ظلمات اماں بھی ہوں اجالوں

بیدلؔ کا تخیل ہوں نہ غالب کی نوا ہوں Read More »

جو لب پہ نہ لاؤں وہی شعروں میں کہوں میں

غزل جو لب پہ نہ لاؤں وہی شعروں میں کہوں میں یوں آئینۂ حسرت گفتار بنوں میں آئینۂ آغاز میں دیکھوں رخ انجام کلیوں کے چٹکنے کی صدا سے بھی ڈروں میں میرے لیے خلوت بھی ہے ہنگامے کی صورت وہ شور تمنا ہے کہ کس کس کو سنوں میں ٹھہرو تو یہ گھر کیا

جو لب پہ نہ لاؤں وہی شعروں میں کہوں میں Read More »

رشک مہتاب جہاں تاب تھا ہر قریۂ جاں

غزل رشک مہتاب جہاں تاب تھا ہر قریۂ جاں جب بھی دل پر چمک اٹھے ترے قدموں کے نشاں کون گزرا ہے مہک بن کے دیار دل سے اتنی گل پوش تھیں کب شہر طلب کی گلیاں تیری تصویر کے پرتو نہیں مٹنے پاتے ایک مدت سے ہے دل کارگہہ شیشہ گراں آج اس موڑ

رشک مہتاب جہاں تاب تھا ہر قریۂ جاں Read More »

کس منہ سے زندگی کو وہ رخشندہ کہہ سکیں

غزل کس منہ سے زندگی کو وہ رخشندہ کہہ سکیں جو مہر و ماہ کو بھی نہ تابندہ کہہ سکیں وہ دن بھی ہوں غبار چھٹیں آندھیاں ہٹیں اور گل کو رنگ و بو کا نمائندہ کہہ سکیں تازہ رکھیں سدا خلش زخم کو کہ ہم جو اب نہ کہہ سکے کبھی آئندہ کہہ سکیں

کس منہ سے زندگی کو وہ رخشندہ کہہ سکیں Read More »

یہی نہیں کہ فقط تری جستجو بھی میں

غزل یہی نہیں کہ فقط تری جستجو بھی میں خود اپنے آپ کو پانے کی آرزو بھی میں اداس اداس سر ساغر و سبو بھی میں یم نشاط کی اک موج تند خو بھی میں مجھی میں گم ہیں کئی تیرگی بکف راتیں ضیا فروش سر طاق آرزو بھی میں مجھی سے قائم و دائم

یہی نہیں کہ فقط تری جستجو بھی میں Read More »