MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جان کر پہچان کر اپنا مجھے تو مان کر

Jan kar pehchan kar apna mujhy to maan kar غزل جان کر پہچان کر اپنا مجھے تو مان کرزندگی کا راستہ تقدیر کچھ آسان کر ساکنانِ دشت سے سینہ سپر ہے تشنگیآبلوں کے سر کچل کچھ دشت پر احسان کر روزنِ تقدیر سے آئے گی من چاہی صدادیکھ کر جس کو سنورتا ہے اسے حیران […]

جان کر پہچان کر اپنا مجھے تو مان کر Read More »

میں زندگی کو دکھوں میں گزار کر خوش ہوں

Main zindagi ko dukhoo main guzaar kar khush hoon غزل میں زندگی کو دکھوں میں گزار کر خوش ہوںمیں ہجر زادہ محبت کو ہار کر خوش ہوں میں ریگزارِ محبت میں آ بلوں کے طفیلجو چاہتا تھا وہ منظر ابھار کر خوش ہوں بتا رہی ہے یہی کچھ مرے قلم کی چالمیں آستین کے سانپوں

میں زندگی کو دکھوں میں گزار کر خوش ہوں Read More »

چاہا تھا میں نے جیسا یہ ویسا نہیں لگا

غزل چاہا تھا میں نے جیسا یہ ویسا نہیں لگایہ عشق سچ کہوں مجھے اچھا نہیں لگا شاید کہ تھک چکے ہیں مرے رشتے دار سبدو چار دن سے زخم جو تازہ نہیں لگا بہتا رہا لہو مرا سینے پہ دشت کےکل رات مجھ کو دشت پیاسا نہیں لگا پھونکی سروشِ عشق نے بس آیتِ

چاہا تھا میں نے جیسا یہ ویسا نہیں لگا Read More »