MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ناں یہ چاند ہو گا ناں تارے رہینگے

ناں یہ چاند ہو گا ناں تارے رہینگےِیہی لوگ حاکم ہمارے رہینگے ریاست کے اندر ریاست کے بانیکہاں آپ کے یا ہمارے رہینگے سمندر کے اُس پار ہونگے اثاثےیقینا” یہاں پر خسارے رہینگے سیاست کی پرچی ہو میرٹ پہ حاویتٙو کیسے منظم ادارے رہینگے انہیں کیا خبر جب بپھرتا ھے دریاتو آنکھوں سے اوجھل کنارے

ناں یہ چاند ہو گا ناں تارے رہینگے Read More »

اِس لئے بھی قید میں ہوتے ہوئے نیٹ آن ھے

اِس لئے بھی قید میں ہوتے ہوئے نیٹ آن ھےتاجروں سے رابطے میں رات دن شیطان ھے کر لیا اسٹاک جس نے چھ گُنا کے واسطےلوگ کہتے ہیں وہ حضرت صاحب ِ ایمان ھے لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہیں قیمتیں بازار میںسو رہے ہیں منتظم سکتے میں بھی ایوان ھے ہاتھ میں پرچی ھے لیکن

اِس لئے بھی قید میں ہوتے ہوئے نیٹ آن ھے Read More »

جیسے رکھا ہو انگیٹھی پہ بھلکڑ نے کباب

جیسے رکھا ہو انگیٹھی پہ بھلکڑ نے کبابجیسے صحرا کی آندھی میں جھلستا ہے گلاب تم نے دیکھی ہے ریالوں کی کمائی لیکنتم نے دیکھا نہیں پردیس کی عیدوں کا عذاب ہائے وہ چاند وطن میں جو نظر آتا ہےبوڑھے چہروں پہ پلٹتا ہوا دیکھا ہے شباب دوڑتے پھرتے ہیں آنگن میں ہمارے بچےجس طرح

جیسے رکھا ہو انگیٹھی پہ بھلکڑ نے کباب Read More »

مختلف مشروب اور ترکاریاں

مختلف مشروب اور ترکاریاںدعوتیں ہوں جسطرح سرکاریاں یاد آتی ہیں بڑھاپے میں ہمیںہائے وہ سسرال کی افطاریاں کیوں مِلے گی چیز سستی آپ کوچل رہی ہوں ٹیکس کی جب آریاں کھا چکی ہے طب کو دو نمبریبڑھ رہی ہیں دن بہ دن بیماریاں ڈھونڈتے ہیں نوکری والی بہودیکھ کر پسران کی بے کاریاں اُس طرف

مختلف مشروب اور ترکاریاں Read More »

امراض بڑھ چکے ہیں دوائی نہیں رہی

امراض بڑھ چکے ہیں دوائی نہیں رہیاس تگ و دو میں آدھی خدائی نہیں رہی جوتے بدل لئے تھے تروایح میں ایک شبکپڑے تو سِل چکے ہیں سِلائی نہیں رہی حاکم نے ہم کو لقمے کھلانے تھے ہاتھ سےوہ کیا کرے کہ اب وہ گدائی نہیں رہی جو چِیر پھاڑ کی ہے معیشت نے قوم

امراض بڑھ چکے ہیں دوائی نہیں رہی Read More »

بے وفائی تٙو مرے ایمان میں ہوتی نہیں

بے وفائی تٙو مرے ایمان میں ہوتی نہیںجسطرح دو نمبری جاپان میں ہوتی نہیں اس لئے لینا پڑا مجھ کو سہارا جھوٹ کاسچ کی دیوی اپنے پاکستان میں ہوتی نہیں تم میسنجر پر نہ کرنا بھول کر ذاتی سوالمجھ سے ایسی گفتگو رمضان میں ہوتی نہیں اس لئے تٙو کر دیا میسیج تمہارے باپ کوبات

بے وفائی تٙو مرے ایمان میں ہوتی نہیں Read More »

سانحہ جو دل پہ گزرا سانحہ وہ کم نہ تھا

Sanaha jo Dil Pa Guzra Sanaha wo Kam na tha غزل سانحہ جو دل پہ گزرا سانحہ وہ کم نہ تھادردِ دل کا زندگی میں کوئی بھی محرم نہ تھا اس لیے کھینچی گئی پیروں کے نیچے سے زمیںکچھ خداؤں کے مقابل اپنا سر جو خم نہ تھا کرکے صدقہ آ گیا ہوں اس لیے

سانحہ جو دل پہ گزرا سانحہ وہ کم نہ تھا Read More »

وزیر آغا کی ایک طویل نظم ’’آدھی صدی کے بعد ‘‘ ایک تنقیدی مطالعہ

خیرالابرار ڈاکٹر وزیر آغا ایک دبستان تھے ، ایک عہدساز شخصیت تھے، کردار ساز تھے۔ اگرچہ مادی طور پر ان کا رابطہ ہم زندہ لوگوں سے کٹ چکا ہے لیکن روحانی طور پر وہ اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے اور ہمیشہ رہیں گے ۔ جب تک اردو ادب ہے، وزیر آغا کا نام زندہ

وزیر آغا کی ایک طویل نظم ’’آدھی صدی کے بعد ‘‘ ایک تنقیدی مطالعہ Read More »