MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر قدم پر وقت مجھ کو سچ ہے سمجھاتا رہا

Her qadam per waqt mujh ko such hay samjhata raha غزل ہر قدم پر وقت مجھ کو سچ ہے سمجھاتا رہامیں وہ سب کہتا رہا جو دل کہلواتا رہا لٹ نہ جائے یہ مرے اجداد کا ورثہ کہیںبے بسی سے بے حسی کے پاؤں دبواتا رہا پرورش کرنے کی خاطر بانجھ ان الفاظ کیکھینچ کر […]

ہر قدم پر وقت مجھ کو سچ ہے سمجھاتا رہا Read More »

مرے دفتر سے آذر شام کو گھر لوٹ آنے پر۔۔

مرے دفتر سے آذر شام کو گھر لوٹ آنے پر۔۔ہمیشہ میں نے بیگم کو بہت غمگین پایا ہے مگر تاریخ ہو پہلی تو فورًا ہنس کے کہتی ہے” بہارو پھول برساؤ مرا محبوب آیا ہے” ندیم آذر

مرے دفتر سے آذر شام کو گھر لوٹ آنے پر۔۔ Read More »

جب تلک چلتا رہا سلسلہِ ایزی لوڈ,,

جب تلک چلتا رہا سلسلہِ ایزی لوڈ,,مجھ سے تُو کرتی رہی پیار کے پیماں جاناں چند دن لوڈ نہ کر پایا تو معلوم ہوا” کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں” ندیم آذر

جب تلک چلتا رہا سلسلہِ ایزی لوڈ,, Read More »

کہا تھا مجھ سے لیڈر نے الیکشن ہورہے تھے جب

کہا تھا مجھ سے لیڈر نے الیکشن ہورہے تھے جبکہ کیوں نہ کام اب اک دوسرے کے آئیں ہم دونوں وزارت جب مِلی ان کو تو مجھکو دیکھ کر بولے” چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں” ندیم آذر

کہا تھا مجھ سے لیڈر نے الیکشن ہورہے تھے جب Read More »

وہ فیس بُک ہو کہ واٹس ایپ زندگی ہیں مری

وہ فیس بُک ہو کہ واٹس ایپ زندگی ہیں مریبغیر ان کے تو آرام بھی نہی آتا کبھی جو بند یہ ہو جائیں تو کروں گا کیا” مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا” ندیم آذر

وہ فیس بُک ہو کہ واٹس ایپ زندگی ہیں مری Read More »

کل مرے محبوب نے کردی یہ فرمائش مجھے

کل مرے محبوب نے کردی یہ فرمائش مجھےتو بڑا شاعر بنا پھِرتا ہے اب میری بھی سُن ایک مصرعہ تو ذرا اس بحر میں کہہ کر دکھافاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلُن میں نے فورًا گنگنا کر ایک مصرعہ کہہ دیاٹُن ٹُنا ٹُن,ٹُن ٹُنا ٹُن,ٹُن ٹُنا ٹُن,ٹُن ٹُڑُن,, ندیم آذر

کل مرے محبوب نے کردی یہ فرمائش مجھے Read More »

میں نے اپنے موبائل پہ سو کا کارڈ جو چارج کیا

میں نے اپنے موبائل پہ سو کا کارڈ جو چارج کیاکچھ لمحوں کے بعد جو دیکھا بیلنس پھر بھی تھا زیرو دیکھ کے زیرو کال ملائی ہیلپنگ لائن سینٹر پرایجنٹ کو بتلایا میں نے کہا حساب تو سو کا دو ہنس کر بولی آذر صاحب انکم ٹیکس وغیرہ میں"اکڑ بکڑ بمبے بو اوت اسی نوے

میں نے اپنے موبائل پہ سو کا کارڈ جو چارج کیا Read More »

ہے بچّوں والی کنواری جناب تھوڑی ہے۔۔

ہے بچّوں والی کنواری جناب تھوڑی ہے۔۔گُلاب تو ہے پہ تازہ گلاب تھوڑی ہے۔۔ ہے پردہ داری کرونا کی مہربانی سے۔۔یہ ماسک چہرے پہ بُدّھو! نقاب تھوڑی ہے۔۔ جو بوتل آپ نے پکڑی ہے میری گاڑی سے۔۔ہے اس میں شہد مری جاں! شراب تھوڑی ہے۔۔ کہوں میں کام تو آنکھیں دِکھانے لگتی ہے۔۔مجھے وہ کام

ہے بچّوں والی کنواری جناب تھوڑی ہے۔۔ Read More »

میں نے جب اس کو تاڑا سواد آگیا

میں نے جب اس کو تاڑا سواد آگیااس نے جس منہ سے جھاڑا سواد آگیا اپنے خونخوار ہاتھوں سے پھر اس نے جبمیرے کُرتے کو پھاڑا سواد آگیا دیکھ کر ” سِین ” رہ گیر رُکتے گیۓاور ایسا لتاڑا سواد آگیا لے گیۓ سارے مِل جُل کے تھانے مجھےجیل میں جونہی واڑا سواد آگیا اک

میں نے جب اس کو تاڑا سواد آگیا Read More »

زخم تازہ ہیں اب تک ہو ا دیجئے

زخم تازہ ہیں اب تک ہو ا دیجئےپیار کرنے کی کچھ تو سزا دیجئے آپ کو میں بھلادوں یہ ممکن نہیںآپ چاہیں تو مجھ کو بھلا دیجئے ہوش والوں سے پردہ بجا ہے مگرمیں نشے میں ہوں گھونگھٹ ہٹا دیجئے ایک دل تھا جو آذر اسے دے دیااس سے بڑھ کر اسے اور کیا دیجئے

زخم تازہ ہیں اب تک ہو ا دیجئے Read More »