MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جہاں میں ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا

جہاں میں ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتاکہ میرے ہونے کا تجھ کو گماں نہیں ہوتا میں جلتا رہتا ہوں اک خامشی سے محفل میںیہ عشق آگ ہے اس میں دھواں نہیں ہوتا یتیمِ شہر کی آنکھیں کچھ ایسی ہوتی ہیںوہ خاک جس کا کوئی آسماں نہیں ہوتا لہو لہان کئے پاوں سانس بوجھل کیمجھے […]

جہاں میں ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا Read More »

پہلے بہشتِ جاں سے گزارا گیا ہوں میں

پہلے بہشتِ جاں سے گزارا گیا ہوں میںپھر رمز معرفت میں اتارا گیا ہوں میں یہ عشق اب کی بار کہاں لے کے جاۓ گاپہلے بھی اس کے ہاتھ سے مارا گیا ہوں میں اپنی سماعتوں سے مجھے یوں گریز تھاجانے کے بعد ہی تو پکارا گیا ہوں میں ان کی منافقت بھی مجھےہے عزیز

پہلے بہشتِ جاں سے گزارا گیا ہوں میں Read More »

وہاں کی ریت سے بھی روشنی نکلتی ہے

Wahan ki Reet say Bhi Roshni Nikalti Hay غزل وہاں کی ریت سے بھی روشنی نکلتی ہےخودی کو لینے، جہاں بے خودی نکلتی ہے دھمال کرتا ہوں اس کو تلاشتا ہوں میںمری تلاش میں جب آگہی نکلتی ہے یہ کیسا تجھ سے تعلق ،جڑا مرے ہمدمکروں نہ یاد اگر ، جاں مری نکلتی ہے سخن

وہاں کی ریت سے بھی روشنی نکلتی ہے Read More »

ہماری جان کی دشمن ہے جب عمرِ گریزاں تک

Hamari Jaan ki Dushman Hay Jab Umr e Gureezan tak غزل ہماری جان کی دشمن ہے جب عمرِ گریزاں تکتو کیا حیرت تمہارے ہاتھ آ پہنچے گریباں تک قلم کی نوک نے کاغذ پہ رکھے ہیں کئی سجدےنہیں ممکن کوئی نشتر کبھی پہنچے رگِ جاں تک لگا کر مخلصی کا دیکھ لو اک بار تم

ہماری جان کی دشمن ہے جب عمرِ گریزاں تک Read More »

رہِ الفت پہ چلنا آگیا ہے

رہِ الفت پہ چلنا آگیا ہےہمیں گر کر سنبھلنا آگیا ہے بہت ٹہراو ہے اب زندگی میںبنا تیرے بہلنا آگیا ہے قفس میں جی میرا لگنے لگا ہےمجھے پنجرے میں چلنا آگیا ہے کسی کی آرزوتھی ،بات بدلوںسو اب باتیں بدلنا آگیا ہے زمانے بھر کی رسوائی اٹھا کرتمہارے ساتھ چلنا آگیا ہے تمہاری خاصیت

رہِ الفت پہ چلنا آگیا ہے Read More »

وہ جو دل کے قریب ہوتے ہیں

وہ جو دل کے قریب ہوتے ہیںاُن سے رشتے عجیب ہوتے ہیں کشتیاں ڈوبتی ہیں ساحل پراپنے اپنے نصیب ہوتے ہیں کاسہ دل میں بغض ہو جن کےدرحقیقت غریب ہوتے ہیں راہِ الفت پہ چل کے دیکھ لیادائرے بد نصیب ہوتے ہیں کرتے رہتے ہیں تذکرہ تیرابعض اچھے رقیب ہوتے ہیں عید کے دن خلش

وہ جو دل کے قریب ہوتے ہیں Read More »

میری یادیں سنبھال رکھئے گا

میری یادیں سنبھال رکھئے گااِتنا رشتہ بحال رکھئے گا خواہشِ اندمال رکھئیے گادل کا کچھ تو خیال رکھئے گا شام کو بھول کر جو گھر لوٹےاُس کے شانے پہ شال رکھئے گا عشق کا لیں جو امتحان کبھیتھوڑے آساں سوال رکھئیے گا جتنا رکھتے ہیں آپ اوروں کااُتنا میرا خیال رکھئیے گا دوستی ، دشمنی

میری یادیں سنبھال رکھئے گا Read More »

سر سے پا تک گھائل ہو

سر سے پا تک گھائل ہومذہبِ عشق کے قائل ہو؟ پھر میں ہوش گنوا دیتا ہوںنشّہ جب بھی زائل ہو لمحہ لمحہ مرنے والےجینے پر کیوں مائل ہو؟ فقر کا لاچہ پہنے خوش ہوپریم گلی کے سائل ہو؟ دنیا سے کیا لڑتے، تم خوداپنی راہ میں حائل ہو دفترِ دل کے اک گوشہ کیجیتی جاگتی

سر سے پا تک گھائل ہو Read More »

خود سے کتنا بھاگ رہے ہو ؟

خود سے کتنا بھاگ رہے ہو ؟چار بجے تک جاگ رہے ہو آنکھوں سے بھی ڈس لیتے ہوپچھلے جنم میں ناگ رہے ہو؟ بجھتی آنکھیں جل اٹھتی ہیںتم تو دیپک راگ رہے ہو سارے موسم ایک سے تم بنہر موسم میں آگ رہے ہو دل کی خلش کی خاطر ابتکخواہشِ دل سے بھاگ رہے ہو

خود سے کتنا بھاگ رہے ہو ؟ Read More »

تمہاری ترجمانی کررہا ہوں

تمہاری ترجمانی کررہا ہوںمیں سب سے بدزبانی کررہا ہوں بہت دیکھے ہیں یہ ایمان والےجب ہی تو بے ایمانی کررہا ہوں اُدھر احباب مری جاں کے درپےاِدھر میں چائے پانی کررہا ہوں جو مجھ سے بدگمانی کررہے ہیںمیں اُن کی میزبانی کررہا ہوں خموشی ، بے سکونی ، یادِ ماضیمیں سب کو آنجہانی کررہا ہوں

تمہاری ترجمانی کررہا ہوں Read More »