MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دوستوں سے مری لڑائی ہے

دوستوں سے مری لڑائی ہےدشمنوں نے خبر اڑائی ہے ہارتے ہارتے بھی جیتوں گا!!عشق اعصاب کی لڑائی ہے کون مرنے سے ڈر رہا ہے جنابنیند تو بھوک نے اڑائی ہے وصل کی خوشنما انگھوٹی میںپتھرِ ہجر کی جڑائی ہے پھر وفاشعار کہ کے تنگ نہ کرمشکلوں سے تو جاں چھڑائی ہے یہ خلش نفسیاتی مسئلہ […]

دوستوں سے مری لڑائی ہے Read More »

جھوٹی محبتوں کی ضرورت نہیں پڑی

جھوٹی محبتوں کی ضرورت نہیں پڑیمصنوعی چاہتوں کی ضرورت نہیں پڑی چاہت کا خوں کیا تو لکھی داستانِ شوقناکام حسرتوں کی ضرورت نہیں پڑی بیٹھے رہے رقیب کے پہلو میں مطمئنبے جا مروتوں کی ضرورت نہیں پڑی رقصاں ہوں آج بن کے بگولہ سا دشت میںصد شکر وحشتوں کی ضرورت نہیں پڑی شہرِ وفا میں

جھوٹی محبتوں کی ضرورت نہیں پڑی Read More »

چہرہ ہے بے نقاب ، کوئی خاص بات ہے ؟

چہرہ ہے بے نقاب ، کوئی خاص بات ہے ؟آپ اور بے حجاب؟ کوئی خاص بات ہے ؟ کرنے لگے ہو پھر سے جفا جُو سے تم وفااو خانماں خراب ، کوئی خاص بات ہے؟ واعظ تو میکدہ میں فقط پوچھنے گئےسستی ہوئی شراب کوئی خاص بات ہے؟ تکمیل عشق ہوگئی یا لٹ گئے حضورہاتھوں

چہرہ ہے بے نقاب ، کوئی خاص بات ہے ؟ Read More »

یہ جو خالی پن ہوتا ہے

یہ جو خالی پن ہوتا ہےاس کا بھی ریزن ہوتا ہے آنکھیں نیند کے دکھ سہتی ہیںتب جا کے درشن ہوتا ہے عشق و محبت کچھ نہیں ہوتاعمر کا اک سیزن ہوتا ہے لوٹ کے جو جاتا ہے بدھووہ تو ابھینندن ہوتا ہے باقی سب قصبے ہوتے ہیںشہر تو بس لندن ہوتا ہے تنہا ہوں

یہ جو خالی پن ہوتا ہے Read More »

عہدِ نو کرنا ضروری ہوگیا

عہدِ نو کرنا ضروری ہوگیاعشق کا دھرنا ضروری ہوگیا جاگتے رہنے کی عادت پڑگئینیند سے ڈرنا ضروری ہوگیا کیونکہ اب تُو صاحبِ مسند نہیںتیرا دَم بھرنا ضروری ہوگیا خالی پنگھٹ پر نظر آئے جو وہگاگریں بھرنا ضروری ہوگیا بے وفاؤں کی شکستِ فاش تکباوفا مرنا ضروری ہوگیا جو کبھی سوچا نہ تھا کر پائیں گےوہ

عہدِ نو کرنا ضروری ہوگیا Read More »

بن گیا ہے مزاج شیشے کا

بن گیا ہے مزاج شیشے کاجب سے پہنا ہے تاج شیشے کا کچھ منافق سے سنگ مل جائیںخوب چمکے گا راج شیشے کا سانس لیتا ہوں احتیاط سے میںدل میں ہے کام کاج شیشے کا کوئی چھو لے تو ہاتھ زخمی ہوںبن گیا ہے اناج شیشے کا قرض ہوجائے پتھروں کا ادادینا ہوگا خراج شیشے

بن گیا ہے مزاج شیشے کا Read More »

جذبوں کی تجارت جاری ہے

Jazboo ki tijaarat jaari Hay غزل جذبوں کی تجارت جاری ہےہر سَمت عدالت جاری ہے رشتے تو کبھی کے ختم ہوئےبس رسمِ مَحبت جاری ہے شعلوں میں لپٹتی بستی میںتحریکِ مذمت جاری ہے تقلید کے اندھے رستے پرخاموش بغاوت جاری ہے لگتا ہے خدا کی بستی میںبس شوقِ شہادت جاری ہے جس دن سے خلش

جذبوں کی تجارت جاری ہے Read More »

پھر وہی آرہا ہے خوابوں میں

Phir wohi aaraha hay khaaboon main غزل پھر وہی آرہا ہے خوابوں میںجس کے کارن پڑا عذابوں میں چھوٹے لوگوں کے نام لکھے ہیںزندگی کی بڑی کتابوں میں ایک وحشت کا تیز دریا ہےوصل کے خوشنما سرابوں میں گرم جذبوں کو سرد کرتی ہےہے یہ کیسا مزا شرابوں میں اک خلش نام کا پرندہ ہےدل

پھر وہی آرہا ہے خوابوں میں Read More »

ذہن راضی ہوا تو دل نے بغاوت کر دی

ذہن راضی ہوا تو دل نے بغاوت کر دیآخرش یوں ہوا منزل نے بغاوت کر دی راگ بکھرا تو ہر ایک ساز نے تیور بدلارقص مشکل ہوا محفل نے بغاوت کر دی کشتیاں ٹوٹیں تو قزاق مرے یار ہوۓراہ سوجھی بھی تو ساحل نے بغاوت کر دی غور سے دیکھو تو حالات سمجھ جاٶگےکہنا آسان

ذہن راضی ہوا تو دل نے بغاوت کر دی Read More »

کیا عجب لطف مجھے صبر کے پھل میں آۓ

کیا عجب لطف مجھے صبر کے پھل میں آۓجیسے نزہت کوٸ رک رک کے محل میں آۓ ہاۓ وہ عشق کی نیرنگ تمنا مت پوچھمست ہو ہو کے مری شوخ غزل میں آۓ روح کو تازگی دے جاۓ ہے شبنم کی طرحجب بھی وہ شعلہ بدن میری بغل میں آۓ جبر کی حد سے نکلنے

کیا عجب لطف مجھے صبر کے پھل میں آۓ Read More »