MOJ E SUKHAN

جہاں میں ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا

جہاں میں ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا
کہ میرے ہونے کا تجھ کو گماں نہیں ہوتا

میں جلتا رہتا ہوں اک خامشی سے محفل میں
یہ عشق آگ ہے اس میں دھواں نہیں ہوتا

یتیمِ شہر کی آنکھیں کچھ ایسی ہوتی ہیں
وہ خاک جس کا کوئی آسماں نہیں ہوتا

لہو لہان کئے پاوں سانس بوجھل کی
مجھے خبر تھی سفر رائیگاں نہیں ہوتا

یہ رمزِ عشق ہے میں سامنے نہیں آتا
وگرنہ عشق ہمارا کہاں نہیں ہوتا

مجھے تو ملنا ہے اس پل میں اے بشر اس سے
گزر ہوا کا جہاں درمیاں نہیں ہوتا

مبشر سلیم بشر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم