MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں

گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں ممکن ہے کہ پھر ورطہء حیرت سے نکل آؤں پہلے تو میں عادت سے نکل آتا تھا باہر ہو سکتا ہے اس بار میں وحشت سے نکل آؤں جی چاہے تو اک بار ذرا پھینک لے پانسہ شاید کہیں اب میں تیری قسمت سے نکل آؤں […]

گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں Read More »

مجھ کو معلوم کیا۔۔۔۔۔

مجھ کو معلوم کیا۔۔۔۔۔ مجھ کو معلوم کیازندگی یہ مجھےجانے کس موڑ پر لےگئیروشنی کی چمکمجھ کو اندھا کرۓکوئی دلدل ہےجس میں ہوں دھنستا ہوادرد مجھ پہ ہی انگلی اٹھاتا ہوامجھ پہ ہنستا ہواریت سانسوں میں ہےچشم نمناک میں خار و خسبس گئےسانس بوجھل ہوئیکوئی ٹوٹا ہے مجھ میں جو ہر سانس پرکوئی تتلی کے

مجھ کو معلوم کیا۔۔۔۔۔ Read More »

محبت رقص کرتی ہے- Mohabbat raqs karti hai

محبت رقص کرتی ہے محبت جنم لیتی ہےمحبت عشق کی مستیمیں رہتی ہےمحبت رقص کرتی ہے محبت زخم دیتی ہے انہی زخموں سے پھر سو پھول کھلتے ہیںانہی پھولوں کی بُو سےعشق کی تتلی پنپتی ہے ، چمکتی ہے وہ تتلی پھر انہی پھولوں سےاک خوشبو چُراتی ہےاِسی خوشبو سےپھر وہ سیپ کے موتی بناتی

محبت رقص کرتی ہے- Mohabbat raqs karti hai Read More »

جلاوں جاں بھی تو اتنا دکھائی دیتا ہے

جلاوں جاں بھی تو اتنا دکھائی دیتا ہےچہار سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے یہ آئنوں سے مری جنگ کا نتیجہ ہےکہ میرا عکس ادھورا دکھائی دیتا ہے ہمارے عشق کا موسم ہمارا ماہِ تمامہماری آنکھ کا سپنا دکھائی دیتا ہے یہ تیرا عکسِ محبت ترا خیال ہے یہجو میرا شعر چمکتا دکھائی دیتا ہے اسے

جلاوں جاں بھی تو اتنا دکھائی دیتا ہے Read More »

دھمال کرتے ہوۓ اور ہاوہو کرتے

دھمال کرتے ہوۓ اور ہاوہو کرتےگزر رہے ہیں ترا زکر کو بہ کو کرتے زرا سی دھوپ کی خواہش میں ہم ٹھہر جاتےجمالِ عشق کے سائے سے گفتگو کرتے وہ سرخ دھاگے کی الجھن بڑھانے لگتی ہےہم اپنے دکھ کی یہ لیریں کہاں رفو کرتے عجب سرور ہے تازہ رکھا ہوا جس کوہماری عمر کٹی

دھمال کرتے ہوۓ اور ہاوہو کرتے Read More »

لوٹ کر آیا نہیں جب سے نکالا گیا ہے

لوٹ کر آیا نہیں جب سے نکالا گیا ہےدل مرا عشق کے منصب سے نکالا گیا ہے جس پہ یہ کفر کا فتوی تھا وہی حق پر تھاکیسے درویش کو مذہب سے نکالا گیا ہے ان دریچوں پہ بچھی روشنی تاروں جیسیچاند بادل سے بڑے ڈھب سے نکالا گیا ہے فیصلہ ہے مری قسمت کا

لوٹ کر آیا نہیں جب سے نکالا گیا ہے Read More »

لہرو بتاؤ کیا تمھیں وہ سلسلے ملے

لہرو بتاؤ کیا تمھیں وہ سلسلے ملےدریا کے بیچ پھر کہاں کچے گھڑے ملے اِک دکھ تھا ہم سے وہ بھی چھپایا نہیں گیاآنکھوں میں ایک یاد کے موتی جَڑے ملے مصروف اس قدر ہوں کہ، گم ہو گیا ہوں میںپر خود سے ملنے آتا ہوں جب بھی سَمے ملے آنکھیں جلائیں، خواب کی ایسی

لہرو بتاؤ کیا تمھیں وہ سلسلے ملے Read More »

یہ رمز و شعر بحر و غزل سب ہمیں کے ہیں

یہ رمز و شعر بحر و غزل سب ہمیں کے ہیںلیکن یہ سارے پھول کسی دلنشیں کے ہیں اس دشتِ بے اماں نے ڈرایا نہیں مجھےجتنے بھی سانپ ہیں وہ مری آستیں کے ہیں اب بارگاہِ عشق میں ایسا مقام ہےآنکھوں سے ہی ادا ہیں جو سجدے جبیں کے ہیں اک تیری ہاں میں ہاں

یہ رمز و شعر بحر و غزل سب ہمیں کے ہیں Read More »

خواب جیسا حُس٘ن تھا یا آئنہ رکھا ہوا

خواب جیسا حُس٘ن تھا یا آئنہ رکھا ہواعشق نے تھا ہر تَمَنّا کو ہرا رکھا ہوا میں نے تو سارے دَرِیچوں میں دیے رَوشَن کئےاب ہوا کے ہاتھ مِیں ہے فَیص٘لَہ رکھا ہوا کس نے دریا کے بَہاو سے نہ پوچھا راستہکس نے لَہ٘روں کی جَبِیں پر تھا گَھڑا رکھا ہوا مجھ جُنُوں نِس٘بت کو

خواب جیسا حُس٘ن تھا یا آئنہ رکھا ہوا Read More »

کچھ اتنے خوش تھے سانس کی آہ و فغاں کے ساتھ

کچھ اتنے خوش تھے سانس کی آہ و فغاں کے ساتھہم نے یقیں کو باندھ دیا ہے گماں کے ساتھ اہلِ زمیں نے کب کہاں جینے دیا ہمیںاب جا کے گھر بسائیں گے ہم آسماں کے ساتھ اس زندگی کو روگ کی صورت نہیں کیاہم قہقہے لگاتے ہیں اشکِ رواں کے ساتھ یہ داستانِ عشق

کچھ اتنے خوش تھے سانس کی آہ و فغاں کے ساتھ Read More »