گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں
گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں ممکن ہے کہ پھر ورطہء حیرت سے نکل آؤں پہلے تو میں عادت سے نکل آتا تھا باہر ہو سکتا ہے اس بار میں وحشت سے نکل آؤں جی چاہے تو اک بار ذرا پھینک لے پانسہ شاید کہیں اب میں تیری قسمت سے نکل آؤں […]
گر میں ترے آفاق کی وسعت سے نکل آؤں Read More »