MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم تم

ہم تُم دن بھی وہ کیا خوب تھے ساتھی ملتے تھے جب تم سے,ہم بھی سرما کی دھوپ ملن کا موسم دیکھو تو پھول کھلن کا موسم, گیت وہ گانا پیار کے سند ر بِن ترے اب تو ساتھی ہر سُو چھائی اُداسی دیکھوں چہرہ بھی اپنا باسی,دیکھوں وعدے وفا کے یاد کرو تُم بچھڑ […]

ہم تم Read More »

قرار داد

قرار داد آؤ اِک عہد کرتے ہیں بھرم وفا کا تُم رکھو گے جو کھائی ہے قسم تو آخری سانس تک نبھائیں گے ذمہ دار وہ بن کر دکھائیں گے تعظیم کو پھر ” سوہنی ٰ مہیوال ” آئیں گے اقرار ہے تُم کو تو چاہت کا پل یہ امر کر دو اِک بنجر مکاں

قرار داد Read More »

رخسانہ نور

سنا ہے پیار کا دکھ جان لے کے ٹلتا ہے سنا ہے درد کا طوفاں اجاڑ دیتا ہے وہ بستیاں جو محبت کے دیوتاوں نے دلوں میں اپنے کرم سے بسائی ہوتی ہیں جفا گروں کو بھلا کیا خبر کے دکھ کیا ہے جو عشق کرتے ہیں وہ جاں پہ کھیل جاتے ہیں وہ درد

رخسانہ نور Read More »

بکاؤ کیا ہے

بکاو کیا ہے؟ نہ لفظ میرے نہ سوچ میری نہ درد میرے ہاں کھوکھلا جسم بیچ دوں تو ۔۔ ۔ ہزار گاہک ، ہزار دلبر وہ کون ہے جس کو چاہئیے ہوں مری وفائیں مری شرافت مری محبت مری صداقت اگر بناوٹ کو بیچ دوں تو ۔۔ ۔ لگیں گے تب دام میرے بہتر عجیب

بکاؤ کیا ہے Read More »

گم شدہ

نا جانے کب سے ہوں گمشدہ میں پھر آج اپنی تلاش میں ہوں وہ بیتے لمحے میری نگاہوں سے چھپ گئے کیوں فراک پہنے لگائے پونی وہ ننھی لڑکی ابھی یہاں تھی کہاں گئی وہ میں آئینوں میں تلاشتی ہوں خلاوں میں پہروں کھوجتی ہوں وہ اماں ، ابا وہ بھائی ، بہنیں ، سہیلیاں

گم شدہ Read More »

زندہ رہنے کا بہانہ چھین لے

زندہ رہنے کا بہانہ چھین لے آنکھ سے سپنا سہانہ چھین لے چھین لے آنکھوں سے میری نیند کو میرے خوابوں کا ٹھکانہ چھین لے شوخیاں بے فکریاں رعنائیاںزندگی کا تانا بانا چھین لے کاتب تقدیر کی مرضی جو ہو تیر سے اس کا نشانہ چھین لے بس چلے صیاد کا ہالہ اگر پنچھیوں سے

زندہ رہنے کا بہانہ چھین لے Read More »

اس کھنڈر حویلی کا انہندام واجب ہے

اس کھنڈر حویلی کا انہندام واجب ہے اب مری کہانی کا اختتام واجب ہے آخری سہی لیکن بے وفا محبت کو دم بہ لب مسافر کا اک سلام واجب ہے تجھ کو پالا پوسا ہے برسوں پرورش کی ہے زندگی تجھے میرا احترام واجب ہے بے قراری, بےچینی , عشق کی جنوں خیزی فرض یہ

اس کھنڈر حویلی کا انہندام واجب ہے Read More »

دور ہے یہ عجب ہر کوئی ڈھونگ ہے

دور ہے یہ عجب ہر کوئی ڈھونگ ہے سب ہیں فنکار یہ زندگی ڈھونگ ہے دل میں نفرت چھپا کر ملیں سب یہاں ہنس کے ملتا ہے جو آدمی ڈھونگ ہے بیٹھے مصرعوں سے مصرعے ملاتے رہو کھیل لفظوں کا ہے شاعری ڈھونگ ہے ہے ریا کار منبر پہ بیٹھا ہوا اور مجذوب کی بے

دور ہے یہ عجب ہر کوئی ڈھونگ ہے Read More »

خالقِ شش جہاں سبحان اللہ

خالقِ شش جہاں سبحان اللہ میں کہاں تو کہاں سبحان اللہ تجھ سے راز و نیاز کرتی ہوئی میری خاموشیاں سبحان اللہ بے نشان و حقیر ذات مری ہر جگہ تو عیاں سبحان اللہ میری شہہ رگ ہے تیرا پایہءتخت توہے مجھ میں نہاں سبحان اللہ خاک کے گھر میں قید میرانفس اور تو لامکاں

خالقِ شش جہاں سبحان اللہ Read More »