MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس نے بھیجا ہے پیار کا تحفہ

Us Nay bheja Hay pyaar ka tohfa غزل اس نے بھیجا ہے پیار کا تحفہ اک دل بے قرار کا تحفہ قسمتو ں سے کسی کو ملتا ہے جان جاں وصل یار کا تحفہ سرد موسم نے لی ہے انگڑائی آ چکا ہے بہار کا تحفہ میرے قدموں کو کیجیے مضبوط دیجیے اعتبار کا تحفہ […]

اس نے بھیجا ہے پیار کا تحفہ Read More »

شاخِ ویراں پر گلِ حیرت کھلا دیتا ہے کون

Shakh e Weeran per Gul e Hairat khila deta hay Kon غزل شاخِ ویراں پر گلِ حیرت کھلا دیتا ہے کونآہ لکھتا ہوں غزل اس کو بنا دیتا ہے کون بے غرض ملتا نہیں کوئی کسی سے جب یہاںآتشِ غم کو مری پھر یہ ہوا دیتا ے کون روز آ جاتے ہو کرنے لاش پر

شاخِ ویراں پر گلِ حیرت کھلا دیتا ہے کون Read More »

جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہے

jab tri yaadoo ki purwai ghazal gaati hay غزل جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہےپھول کھل اٹھتے ہیں تنہائی غزل گاتی ہے رقص کرتی ہوئی آتی ہے ترے جسم کی یادتیری ٹوٹی ہوئی انگڑائی غزل گاتی ہے گدگداتی ہے تصور کو ترے روپ کی دھوپمیرے جذبات کی شہنائی غزل گاتی ہے ایک مدت

جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہے Read More »

جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہے

Jab bhi mujh ko apna Bachpan yaad aata hay غزل جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہےبچپن کے اک پیار کا بچپن یاد آتا ہے دیکھ کے اس منہ زور جوانی کی منہ زوریمجھ کو اس کا توتلا بچپن یاد آتا ہے عورت ماں تھی بہن تھی دادی تھی نانی تھیکورے کاغذ جیسا

جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہے Read More »

تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہے

Teray lehjay ka tri baat ka aaeena Hay غزل تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہےمیرا ہر شعر تری ذات کا آئینہ ہے تیری زلفوں کے مچلتے ہوئے ساون کا سماںمیرے مہکے ہوئے جذبات کا آئینہ ہے میرے چہرے کو ذرا غور سے دیکھو تو سہیمیرا چہرہ مرے حالات کا آئینہ ہے لہلہاتی ہوئی

تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہے Read More »

رسوا کیا شعور کو دانائی چھین لی

Ruswa kia shaoor ko Daanaai Cheen li غزل رسوا کیا شعور کو دانائی چھین لیجہل خرد نے آنکھوں سے بینائی چھین لی سانسوں میں گونجتی ہوئی شہنائی چھین لیشہروں نے مجھ سے گاؤں کی پروائی چھین لی اس طرح بھی بدلتے ہیں نظروں کے زاویےخود خواب ہی نے خواب کی رعنائی چھین لی روحوں کی

رسوا کیا شعور کو دانائی چھین لی Read More »

کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہ

Kia Cheez Hay uzr lab e Izhaar ka saya غزل کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہاقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہ تقدیر گلستاں کی بدل دیتا ہے وہ پھولپڑ جاتا ہے جس پھول پہ تلوار کا سایہ دیوار سے دیوار کی دوری ارے توبہپڑتا نہیں دیوار پہ دیوار کا سایہ احساس کی

کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہ Read More »

رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلو

Rah e Hayaat ko aasaaN bana sako to chaloo غزل رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلوہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلو نگاہ ناز کا جادو جگا سکو تو چلوقدم قدم پہ نئے گل کھلا سکو تو چلو رہ وفا میں غموں کے بہت اندھیرے ہیںہر ایک حال میں تم مسکرا سکو

رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلو Read More »

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں

Yooun dil e deewana ko aksar saza deta hoon main غزل یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میںاپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میں اپنے دل کے خون سے وہ گل کھلا دیتا ہوں میںریگزاروں کو گلستاں کی ادا دیتا ہوں میں ایسی منزل پر مجھے پہنچا دیا ہے عشق نےمیرا

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں Read More »

ہم اپنی فکر کا چہرہ بدل کے دیکھتے ہیں

Ham apni fikr ka chahra Badal Kay dekhty Hain غزل ہم اپنی فکر کا چہرہ بدل کے دیکھتے ہیںطلسم خواب سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں سنا یہ ہے کہ بہت تیز گام ہو تم لوگتمہارے ساتھ ذرا ہم بھی چل کے دیکھتے ہیں اٹھا کے چاند ستاروں کو سر پہ دیکھ چکےہم اپنے ماتھے

ہم اپنی فکر کا چہرہ بدل کے دیکھتے ہیں Read More »