MOJ E SUKHAN

اس کھنڈر حویلی کا انہندام واجب ہے

اس کھنڈر حویلی کا انہندام واجب ہے
اب مری کہانی کا اختتام واجب ہے

آخری سہی لیکن بے وفا محبت کو
دم بہ لب مسافر کا اک سلام واجب ہے

تجھ کو پالا پوسا ہے برسوں پرورش کی ہے
زندگی تجھے میرا احترام واجب ہے

بے قراری, بےچینی , عشق کی جنوں خیزی
فرض یہ نہیں سب کچھ، یہ تمام واجب ہے

مجھ کو اس نے لوٹا ہے دوستی کے پردے میں
آج میرا دشمن سے انتقام واجب ہے

وقت نہ قضا کیجے در پہ جا صدا کیجے
آخرت کا بھی ہالہ انتظام واجب ہے

ہالہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم