تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سے
تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سےجیسے روشنی باہر نکلے شیشے کے دروازوں سے میں بھی تیرے بازو تھاموں میں بھی تیرے ساتھ اُڑوںلیکن مجھ کو ڈر لگتا ہے ان اُونچی پروازوں سے آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں کچھ ، کان سے بجتے رہتے ہیںمیں نے جب سے ناتا توڑا سایوں اور آوازوں […]
تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سے Read More »