MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سے

تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سےجیسے روشنی باہر نکلے شیشے کے دروازوں سے میں بھی تیرے بازو تھاموں میں بھی تیرے ساتھ اُڑوںلیکن مجھ کو ڈر لگتا ہے ان اُونچی پروازوں سے آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں کچھ ، کان سے بجتے رہتے ہیںمیں نے جب سے ناتا توڑا سایوں اور آوازوں […]

تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سے Read More »

لوگ کب تک تری مورت دیکھیں

لوگ کب تک تری مورت دیکھیںاس سے بہتر کوئی صورت دیکھیں تو کہ ہر شخص کو اُجلا سمجھےہم کہ ہر دل میں کدورت دیکھیں میرے دامن میں کوئی تار نہیںلوگ اب اپنی ضرورت دیکھیں کوئی یوں بھی ہمیں پہچانتا ہےآؤ ہر ایک کی صورت دیکھیں تو بھی پیارا ہے، زمانہ بھی حسیںتجھے دیکھیں کہ ضرورت

لوگ کب تک تری مورت دیکھیں Read More »

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہےہم تیرے انتظار میں پھر بھی کھڑے رہے تُم رُک گئے پہ سنگ کا میلہ نہ کم ہوااس کارواں کے ساتھ مسافر بڑے رہے میرے بدن پہ صرف ہوا کا لباس تھاتیری قبا میں چاند ستارے جڑے رہے پیڑوں کو لوگ پوجتے آئے ہیں دیر سےپتے ہمیشہ پاؤں

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے Read More »

تنہائی اوڑھ لی ہے، کبھی غم بچھا لیا

تنہائی اوڑھ لی ہے، کبھی غم بچھا لیامشکل سے زندگی نے کوئی راستہ لیا ایسے بھی لوگ وقت نے دکھلائے ہیں کہ ہمانجان بن گئے کبھی چہرہ چھپا لیا جیسے ابھی تلک ہو ہو مری راہ دیکھتاوہ پہلی شب کا چاند، وہ چہرہ سوالیہ دھرتی کا بوجھ اتنا گرانبار تو نہیںکیوں تم نے آسمان کو

تنہائی اوڑھ لی ہے، کبھی غم بچھا لیا Read More »

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھےاس چاند سے جب پہلے پہل نین لڑے تھے رستے بڑے دُشوار تھے اور کوس کڑے تھےلیکن تری آواز پہ ہم دوڑ پڑے تھے بہتا تھا مرے پاؤں تلے ریت کا دریااور دھوپ کے نیزے مری نس نس میں گڑے تھے پیڑوں پہ کبھی ہم نے

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے Read More »

جو بھی شیریں سخنی ہے مرے مکی مدنی

جو بھی شیریں سخنی ہے مرے مکی مدنیتیرے ہونٹوں سے چھنی ہے مرے مکی مدنی صنعتِ نعت میں الفاظ کے ہیروں کی تلاشہنرِ کان کنی ہے مرے مکی مدنی میں کہاں اور تری مدح کہاں، یہ تو تمامتیری رحمت فِگنی ہے مرے مکی مدنی نسل در نسل تری ذات کے مقروض ہیں ہمتو غنی ابنِ

جو بھی شیریں سخنی ہے مرے مکی مدنی Read More »

عشق میں اشک جو بہاتی ہوں

Ishq main Ashk jo Bahati Hoon غزل عشق میں اشک جو بہاتی ہوںجان کر میں فریب کھاتی ہوں آئینہ دِل کے رُو برو رکھ کراُس کی تصویر میں سجاتی ہوں شُغل کرتی ہوں شاعری سے جببزمِ شعر و ادب میں جاتی ہوں ایک منظر کشی بھی ہو جِس میںشعر ایسے بھی لکھ کے لاتی ہوں

عشق میں اشک جو بہاتی ہوں Read More »

موسمِ گُل میں جب سنور تی ہوں

Mosam e gul main jab sanwarti Hoon غزل موسمِ گُل میں جب سنور تی ہوںگُل کی مانند میں نکھرتی ہوں میں جو طوفان میں اترتی ہوںڈوب کر بھی تو میں اُبھرتی ہوں گوشہء دل میں بس گیا ہے کوئیاپنی اُلفت پہ ناز کرتی ہوں زندگی میری مُستعار سہیزیست میں اپنی رنگ بھرتی ہوں بانٹ لیتی

موسمِ گُل میں جب سنور تی ہوں Read More »

اب نہ توپوں سے خوف آتا ہے

Ab na toopoo say khoof aata hay غزل اب نہ توپوں سے خوف آتا ہےبس نہتوں سے خوف آتا ہے ہم بھروسہ کریں تو کس پہ کریںہم کو اپنوں سے خوف آتا ہے اب تو حالات دیکھئے کیا ہیںاپنے بچوں سے خوف آتا ہے پہلے ڈرتے نہ تھے کسی سے ہماب تو بہتوں سے خوف

اب نہ توپوں سے خوف آتا ہے Read More »

زیست کو خواب نہیں ایک حقیقت کیجے

Zeest ko Khwaab nahi aik Haqeeqat kejyee غزل زیست کو خواب نہیں ایک حقیقت کیجےناکہ خوابوں میں سفر کرنے کی حسرت کیجے شمعِ اُمید کو تنویر کی صورت کیجےسینچ کر خون سے گلستاں کی حفاظت کیجے گو کہ دشوار ہے دشمن سے بھی اُلفت کرنادل کو پتھر نہیں بس موم کی صورت کیجے دے کے

زیست کو خواب نہیں ایک حقیقت کیجے Read More »