MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندگی جبر ہے آزار ہے رسوائی ہے

zindagi Jabr Hay Aazar Hay ruswaai Hay غزل زندگی جبر ہے آزار ہے رسوائی ہےزندگی ہجر ہے جاں لیوا سی تنہائی ہے پات کیا چیز ہے اے میرے جہاں کے مالکپھول جو بھی ہے ترے باغ میں ہرجائی ہے کتنے سادہ ہو میاں تم جو وفا ڈھونڈتے ہوکوئی دیکھا ہے یہاں جس نے وفا پائی […]

زندگی جبر ہے آزار ہے رسوائی ہے Read More »

کوئی پت جھڑ کوئی بہار نہیں

Koi pat jhaar koi bahaar Nahi غزل کوئی پت جھڑ کوئی بہار نہیںمیرا خود پر بھی اختیار نہیں زندگانی کی بات کرتے ہوایک لمحے کا اعتبار نہیں سبھی دشمن ہیں ہمسفر میرےاس سفر میں کوئی بھی یار نہیں کون ایسا ہے بہری دنیا میںرنج و غم سے جو ہم کنار نہیں شام آئے ہو کیوں

کوئی پت جھڑ کوئی بہار نہیں Read More »

مسئلہ کیا ہے درمیاں اپنا

Masala kia hay darmian apna غزل مسئلہ کیا ہے درمیاں اپناجب زمیں اور آسماں اپنا آب و دانہ کے واسطے میں بھیچھوڑ آئی ہوں آشیاں اپنا دشتِ الفت یونہی رلانے گیلے لے واپس تو یہ بیاں اپنا ہم تو اس شہر کے مکیں ٹھہرےجہاں ہوتا نہیں مکاں اپنا بے اماں بے وطن مسافر ہوںرنج لیتے

مسئلہ کیا ہے درمیاں اپنا Read More »

میں تو ذلیل ہوگیا بیٹھا ہوں ہار کر

Itna Zaleel Ho Gaya Baitha Hoon Haar Kar غزل میں تو ذلیل ہو گیا بیٹھا ہوں ہار کرعورت سے اب ملوں گا میں اردو سنوار کر اس نے لکھا تھا خط میں مجھے آشکار کرمیں سمجھا لکھ رہی ہے مجھے آ  شکار کر مجھ کو تو جھوٹی لگتی ہے محبوبہ بھی مریمیں باپ کیسے بن

میں تو ذلیل ہوگیا بیٹھا ہوں ہار کر Read More »

شادی کے بعد شعر ہوئے ہیں کمال کے

Shadi kay baad Sheer hyee hain kamaal kay غزل شادی کے بعد شعر ہوئے ہیں کمال کےاردو درست ہو گئی بیگم کو پال کے منہ دھو کے پہلی بار وہ جب آئی سامنےمطلب سمجھ گیا میں عروج و زوال کے شادی سے پہلے چوک ہوئی مجھ سے بس یہیجو دن سکوں کے تھے انہیں سمجھا

شادی کے بعد شعر ہوئے ہیں کمال کے Read More »

محبت سے محبت کی کہانی میں رہا کر

Mohabat Say Mohabat ki Kahani Main Raha Kar غزل محبت سے محبت کی کہانی میں رہا کریا پھر رنج و الم کی ترجمانی میں رہا کر سمجھ کر خواہشیں مردہ بساطِ زندگی میںتخیل کے فقط اس دارِ فانی میں رہا کر مرے کانوں میں میرے دل نے چپکے سے کہا یہاگر جذبے جواں ہیں تو

محبت سے محبت کی کہانی میں رہا کر Read More »

بات جو مختصر نہیں کرتا

Baat jo Mukhtasar Nahi Karta غزل بات جو مختصر نہیں کرتااس کا لہجہ اثر نہیں کرتا مجھ کو معلوم ہے خفا ہوگابات میں جان کر نہیں کرتا وہ کبھی عشق کر نہ پائے گاخود کو جو در بدر نہیں کرتا جانتی ہے تبھی بلاتی ہے۔رات کو میں سفر نہیں کرتا عشق کیسے کھلے گا اس

بات جو مختصر نہیں کرتا Read More »

کسی صورت یہ صورت ہو تو ہو کیسے

Kissi Soorat yeh Soorat ho to ho Kaisay غزل کسی صورت یہ صورت ہو تو ہو کیسےتکلم کی اجازت ہو تو ہو کیسے میں جاہل ہوں نہیں کوئی سلیقہ بھیتمھیں مجھ سے محبت ہو تو ہو کیسے جسے کل تک کہا میری محبت ہوکوئی اس سے شکایت ہو تو ہو کیسے مری دھرتی پہ حاکم

کسی صورت یہ صورت ہو تو ہو کیسے Read More »

دل کو ویران کر گیا کوئی –

Dil KO Weeran Kar Gaya koi غزل دل کو ویران کر گیا کوئیایک مشکل سے ڈر گیا کوئی روپ کیا دھارا دل نے پتھر کااس میں آیا گزر گیا کوئی کوئی مر کر بھی زندہ رہتا ہےزندہ رہ کر بھی مر گیا کوئی عشق نے مجھ کو تو اجاڑا ہےعشق میں پر سنور گیا کوئی

دل کو ویران کر گیا کوئی – Read More »

زندگی بے زباں نہیں رکھنا

Zindagi Bay zaban Nahi Rakhna غزل زندگی بے زباں نہیں رکھنافاصلے درمیاں نہیں رکھنا کر محبت نئی روایت سےدل میں گزرا جہاں نہیں رکھنا کون جاں دے کسی کی خاطر ابدوستی میں گماں نہیں رکھنا حوصلہ ہے اگر پہاڑوں سااپنے ہونٹوں پہ ناں نہیں رکھنا جب مناسب نہ ہو ہوا کا رخپھر رواں کارواں نہیں

زندگی بے زباں نہیں رکھنا Read More »