MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

درِ مصطفیٰ سے شفا چاہیے

Dar e Mustafa Say Shifa Chahyee مناجات درِ مصطفیٰ سے شفا چاہیےمجھے بس یہی اک عطا چاہیے جو آسان کردے ہر اک راستہمجھے وہ حسیں اک ادا چاہیے وہ دامانِ آلِ نبی تھام لےمحمد کی جس کو رضا چاہیے کرو وردِ صلے علیٰ گر تمہیںگٹھن میں کہیں سے ہوا چاہیے میں دیوانہ آلِ محمد کا […]

درِ مصطفیٰ سے شفا چاہیے Read More »

دیکھیں ہماری جان جلایا نہ کیجیے

Dekhain Hamari jaan jalaya na kejyee غزل دیکھیں ہماری جان جلایا نہ کیجیے بارش میں چھت پہ جا کے نہایا نہ کیجیے محسوس کیجیے کہ بڑی ہو گئی ہیں آپ چُنری بغیر سامنے آیا نہ کیجیے آتا ہے پیار مجھ پہ لگا لیجیے گلے جذباتِ والہانہ دبایا نہ کیجیے احساسِ اضطراب کی لذت نہ چھینیے

دیکھیں ہماری جان جلایا نہ کیجیے Read More »

پہلے مظلوم نے انصاف پکارا ہو گا

Pehlay Mazloom Nay Insaaf pukara Hoga غزل پہلے مظلوم نے انصاف پکارا ہو گا پھر کہیں جا کے مرا ہوگا یا مارا ہوگا کیوں نہیں ماں نے یہ سوچا کہ مرے بچوں کا بعد مرنے کے مرے کیسے گذارا ہو گا زاویہ آپ کی نظروں کا بدل جائے گا لاپتہ گھر سے اگر آپ کا

پہلے مظلوم نے انصاف پکارا ہو گا Read More »

جس کا دنیا میں کام رہتا ہے

Jiss ka dunya main kaam rehta hay غزل جس کا دنیا میں کام رہتا ہے بعد مرنے کے نام رہتا ہے عشق میں فاصلے اگر ہوں بھی غائبانہ کلام رہتا ہے کس گھڑی بام پر وہ آ جائے ہر گھڑی اہتمام رہتا ہے ہم اسے دیکھتے ہی رہتے ہیں جب وہ محوِ خرام رہتا ہے

جس کا دنیا میں کام رہتا ہے Read More »

ہو چکا ہوں بہت خفا خود سے

Ho chuka hoon bohat khafa khud say غزل ہو چکا ہوں بہت خفا خود سے ہو نہ جاؤں کہیں جدا خود سے خود کی وحشت سے جس طرف بھاگا پوچھیے سچ تو آ ملا خود سے ہم یہ سمجھے کہ ہم ہیں پروردہ واقعہ رونما ہوا خود سے موت کے انتظار میں اک شخص دیکھیے

ہو چکا ہوں بہت خفا خود سے Read More »

بندہ چاہے تو کیا نہیں ہوتا

Banda Chahy to kia Nahi hota غزل بندہ چاہے تو کیا نہیں ہوتا ہاں مگر حوصلہ نہیں ہوتا اک نیا راستہ نکلتا ہے کوئی جب راستہ نہیں ہوتا دُوریاں دل سے دل کی ہوتی ہیںدرمیاں فاصلہ نہیں ہوتا دوستی بے وجہ نہیں ہوتی پیار بھی خوامخواہ نہیں ہوتا اس کا جادو سبھی پہ چلتا ہے

بندہ چاہے تو کیا نہیں ہوتا Read More »

نگاہوں کے آگے دھواں ہی دھواں ہے

NigahooN Kay Aagay Dhowaan hi Dhowaan Hay غزل نگاہوں کے آگے دھواں ہی دھواں ہے حقیقت بھی سچ میں فریبِ گماں ہے بشر کی حیاتی میں رکھا ہی کیا ہے حیاتِ بشر تو زیاں ہی زیاں ہے مقیّد زماں میں ہر اک آدمی ہے زماں ہی کی حرکت سے قائم مکاں ہے تھی آدم میں

نگاہوں کے آگے دھواں ہی دھواں ہے Read More »

خاطر کسی کے روز سنورنے کے باوجود

Khatir kissi Kay rooz sanwarny Kay Bawajood غزل خاطر کسی کے روز سنورنے کے باوجود میرا رہا وہ مجھ سے بچھڑنے کے باوجود کیسی عجیب چیز ہے الفت کے آدمی آتا ہے یاد دل سے اترنے کے باوجود دیکھو یہی تو وصف لہو کا ہے دوستو رہتے ہیں بھائی ساتھ میں لڑنے کے باوجود کردار

خاطر کسی کے روز سنورنے کے باوجود Read More »

عیش کرنے دیجیے پاگل بنانے دیجیے

Aish Karnay dejyee pagal Banany dejyee غزل عیش کرنے دیجیے پاگل بنانے دیجیے کھا رہے ہیں تخت والے مل کے کھانے دیجیے اب بھی باقی ہے ہمارے جسم میں کچھ گوشت پوست خون پینے دیجیے ہڈّی چبانے دیجیے جل رہا ہے اپنا چولھا اب تلک تو ٹھیک ہے اہلِ فاقہ مر رہے ہیں مر ہی

عیش کرنے دیجیے پاگل بنانے دیجیے Read More »

اس ہنر سے وہ ہر اک بزم میں چھایا ہوا ہے

Is Hunar say wo her ik bazm main chaaya howa hay غزل اس ہنر سے وہ ہر اک بزم میں چھایا ہوا ہے اپنا ہونے کا یقیں سب کو دلایا ہوا ہے وہ مرے ساتھ ہے میں ساتھ ہوں اُس کے لیکن کیوں تصور میں کوئی دوسرا آیا ہوا ہے اُس کی اس طرز کی

اس ہنر سے وہ ہر اک بزم میں چھایا ہوا ہے Read More »