MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گہری اداسیوں کو مٹایا ہے فون پر

Gehri Udasioo ko Mitaya Hay Fone per غزل گہری اداسیوں کو مٹایا ہے فون پر اس نے مجھے گلے سے لگایا ہے فون پر اک دوسرے کو ہم نے خفا رُوبرو کیا اک دوسرے کو ہم نے منایا ہے فون پر شب روٹیاں پکاتے ہوئے ہاتھ جل گیا میں رو پڑا جب اس نے بتایا […]

گہری اداسیوں کو مٹایا ہے فون پر Read More »

انہی کے نقشِ پا کے یہ نشاں ہیں

Inhi Kay Naqsh e paa kay yeh Nishaan Hain غزل انہی کے نقشِ پا کے یہ نشاں ہیںستارے آسماں در آسماں ہیں فقط اک چاند تارا دیکھتے ہوبہت سے چاند تارے آسماں ہیں ہماری زندگی اپنی نہیں ہےکئی رشتے ہمارے درمیاں ہیں وہ ڈسنے کے مواقع ڈھونڈتے ہیںخداوندا یہ کیسے مہرباں ہیں یہ زخموں کے

انہی کے نقشِ پا کے یہ نشاں ہیں Read More »

اب دلوں میں زمہریری کپکپی ہے

Abh Diloo Main Zamhareeri KapKapi Hay غزل اب دلوں میں زمہریری کپکپی ہےاور لبوں پر برف سے پپڑی جمی ہے مردنی انفاس پر چھائی ہوئی ہےآفتاب_ یخ زدہ کو چپ لگی ہے پھول پودے خشک ہوتے جا رہے ہیںفصل_ برفانی چمن میں چھا گئی ہے کوچہ و بازار ہیں سہمے ہوئے سےشہر میں اب سرد

اب دلوں میں زمہریری کپکپی ہے Read More »

وہ حسنِ حشر ساماں ہے معاذ اللہ

Wo Husn e Hashr saamaan Hay Maaz Allah غزل وہ حسنِ حشر ساماں ہے معاذ اللہنگاہ_ شوق حیراں ہے معاذ اللہ کرشمے بھی تو ہوتے ہیں محبت میںجدائی کا بھی امکاں ہے معاذ اللہ تمازت ریت میں کانٹے زباں پر ہیںتقاضا ئے بیاباں ہے معاذ اللہ صبا بھی خار و خس میں منہ چھپائے ہےچمن

وہ حسنِ حشر ساماں ہے معاذ اللہ Read More »

سب ہیں انوارِ شبستاں آنکھ میں

Sab Hain Anwaar e Shabistaan Aankh Main غزل سب ہیں انوارِ شبستاں آنکھ میںچاند ہے اب تک فروزاں آنکھ میں عشق کا ہے یہ تقاضا ہو سداجلوہ۶ جانِ بہاراں آنکھ میں چشم بینا دیکھتی ہے دور تکرک گیا جیسے بیاباں آنکھ میں میرے اندر نور ہے پھیلا ہواخوب چمکے تیری افشاں آنکھ میں چشم و

سب ہیں انوارِ شبستاں آنکھ میں Read More »

شہر میں حسنِ بلا کا فتنہ ہے

Shahr main Hussn e Bala ka Fitna Hay غزل شہر میں حسن بلا کا فتنہ ہے یہ طلسم خوش ادا کا فتنہ ہے خواہش دیدارحسن سحر خیز عاشقان جاں فدا کا فتنہ ہے رفتہ رفتہ بن گیا ناسورِ دل ایک درد لادوا کا فتنہ ہے سب جمالِ یار پردے میں رہاجو بھی ہے بندِ قبا

شہر میں حسنِ بلا کا فتنہ ہے Read More »

رہبرکون و مکاں افسوس ہے

Rehbar e Koon o makaan Afsoos Hay رہبرکون و مکاں افسوس ہے سوئے دوزخ سب رواں افسوس ہے چل پڑی ہے خود پرستی کی ہوا سب کو ہے فکرزیاں افسوس ہے اب جنون_عشق میں سودا نہیںاب محبت ہے دکاں افسوس ہے کوئی تارے توڑنے آتا نہیںہے فلک گریہ کناں افسوس ہے اب یہاں گل ہے

رہبرکون و مکاں افسوس ہے Read More »

ناروا ہیں شکایتیں ساری

Narwa Hain Shikayateen Saari غزل ناروا ہیں شکایتیں ساریدل کے اندر ہیں وحشتیں ساری درد سے ہو گیا ہے دل خوگربے اثر ہیں اذیتیں ساری چشم_بینا میں روشنی ہے بہتکھل گئی ہیں حقیقتیں ساری جب سے خود کو کیا فنا فی اللہمجھ سے کم تر ہیں قیمتیں ساری اب برابر ہیں زندگانی میںوصل سب اور

ناروا ہیں شکایتیں ساری Read More »

خوبصورت زندگانی ہو رہی ہے

Khoobsurat Zindagani Ho rahi Hay غزل خوبصورت زندگانی ہو رہی ہےدل کے اندر گل فشانی ہو رہی ہے فصل_گل ہے پھر چمن میں پھیلی خوشبوپھر مرتب اک کہانی ہو رہی ہے سارا دن ہم تھے سمندر کے کنارےرات بھی کتنی سہانی ہو رہی ہے چل رہی ہیں آخری سانسیں ہماریاب محبت جاودانی ہو رہی ہے

خوبصورت زندگانی ہو رہی ہے Read More »

جذبہِ دل کیسی شوریدہ سری ہے

Jazba e Dil Kaisi Shooreeda sari Hay غزل جذبہِ دل کیسی شوریدہ سری ہےکوئی مشکل میرے سر پر آ پڑی ہے سحر آگیں ہے بدن اس کا اگر چہلب گلابی آنکھ میں پاکیزگی ہے کتنی سرعت سے پھلے فصل محبت عاشقی کے بیج میں بالیدگی ہے ہجر کے گہرے اندھیرے ڈر رہے ہیں آ ہ

جذبہِ دل کیسی شوریدہ سری ہے Read More »