Khatir kissi Kay rooz sanwarny Kay Bawajood
غزل
خاطر کسی کے روز سنورنے کے باوجود
میرا رہا وہ مجھ سے بچھڑنے کے باوجود
کیسی عجیب چیز ہے الفت کے آدمی
آتا ہے یاد دل سے اترنے کے باوجود
دیکھو یہی تو وصف لہو کا ہے دوستو
رہتے ہیں بھائی ساتھ میں لڑنے کے باوجود
کردار مارنا تو نہیں بس میں موت کے
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
افسوس اپنے ذہن میں وسعت نہ آ سکی
درسی کتابیں سینکڑوں پڑھنے کے باوجود
کیوں چہرہ مسکرانے کا عادی نہیں رہا
لمحے اذیتوں کے گزرنے کے باوجود
(شاہ فہد)
Shah Fahad