mery andar meray bahar tha
غزل
میرے اندر میرے باہر تھا
ایسا لگتا تھا کوئی شاعر تھا
زندگی اس کا روپ لے آئی
وہ میری ساعتوں پہ قادر تھا
اس سے وابستہ تھیں میری خوشیاں
میرا سب کچھ اسی کی خاطر تھا
غم جسے لوگ میرا سمجھے تھے!
وہ نہیں تھا کبھی جو ظاہر تھا۔
بجلیاں ٹوٹ کر گریں اور میں
گھر بچانے سے اپنا قاصر تھا
جان مٹھی میں لے کے رکھتا اور
دل جلانے کا بھی ماہر تھا۔
پیر غلام مجدد سرہندی مجدد
Peer Ghulam MujadidSarhandi