MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میرے اندر میرے باہر تھا

mery andar meray bahar tha

غزل

میرے اندر میرے باہر تھا
ایسا لگتا تھا کوئی شاعر تھا

زندگی اس کا روپ لے آئی
وہ میری ساعتوں پہ قادر تھا

اس سے وابستہ تھیں میری خوشیاں
میرا سب کچھ اسی کی خاطر تھا

غم جسے لوگ میرا سمجھے تھے!
وہ نہیں تھا کبھی جو ظاہر تھا۔

بجلیاں ٹوٹ کر گریں اور میں
گھر بچانے سے اپنا قاصر تھا

جان مٹھی میں لے کے رکھتا اور
دل جلانے کا بھی ماہر تھا۔

پیر غلام مجدد سرہندی مجدد

Peer Ghulam MujadidSarhandi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم