MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چھپاؤ گےاشکوں کی برسات کب تک

Chupaoo Gay Ashkoo ki Barsaat Kab Tak غزل چھپاؤ گےاشکوں کی برسات کب تک محبت کی زائل علامات کب تک کبھی آتشِ حسن سے آنکھ تاپی حرارت کے دل میں ہیں جذبات کب تک کبھی بعد مدت کے ہم یاد آئیں ہو پانی میں عکسِ ملاقات کب تک تمہیں چین لینے نہیں دینگی یادیں وہ […]

چھپاؤ گےاشکوں کی برسات کب تک Read More »

سلیمؔ کس کو بتاؤں ابھی سے کیا ہوں میں

Saleem Kiss ko Bataoon abhi say kia Hoon Main غزل سلیمؔ کس کو بتاؤں ابھی سے کیا ہوں میںابھی تو کارِ تمنا کی ابتدا ہوں میں تری کشش سے ترے گرد رقصِ شوق میں ہوںجو قُرب سے نہیں گھٹا وہ فاصلہ ہوں میں مری شکست سے تو بھی بکھر نہ جائے کہیںمجھے سنبھال کے رکھ

سلیمؔ کس کو بتاؤں ابھی سے کیا ہوں میں Read More »

جدائی کب تھی کہاں ہوئی تھی میں اس سے بھی بے خبر گیا ہوں

Judaee Kab thee Kahan Hoi thee main iss say bhi bay Khabar Gaya Hoon غزل جدائی کب تھی کہاں ہوئی تھی میں اس سے بھی بے خبر گیا ہوںتو سایہ آسا تھا ساتھ میرے میں تجھ سے چھٹ کر جدھر گیا ہوں مجھے سمیٹو! تو میرے اندر نئے معانی ہیں نقش بستہکتاب خود آگہی ہوں

جدائی کب تھی کہاں ہوئی تھی میں اس سے بھی بے خبر گیا ہوں Read More »

کیا محبت میں مجھے طالعِ بیدار ملا

Kia Mohabat main Mujhay Tallah e Beedar Mila غزل کیا محبت میں مجھے طالعِ بیدار ملادل ملا ، جان ملی ،درد ملا ، یار ملا اپنی تنہائی کے اندوہ میں رہتے بستےمیری خاموش وفا کو لبِ اظہار ملا دل کو اقرارِ محبت کی تمنا نہ رہیایسا اس شوخ کو پیرایہءِ انکار ملا نیند آئی تو

کیا محبت میں مجھے طالعِ بیدار ملا Read More »

جیسے کسی دریا میں سرِ آب پرندے

Jaisay kissi darya Main sar e aab Parinday غزل جیسے کسی دریا میں سرِ آب پرندےلگتے ہیں مجھے انجم و مہتاب پرندے بچوں کے لیے حیرتِ پرواز نہیں ہےاس شہر میں مدت سے ہیں نایاب پرندے کس دیس اُنھیں لے گئیں بیتاب اُڑانیںآنکھوں کے نشیمن سے گئے خواب پرندے میں ساحلِ افتادہ پہ خاموش کھڑا

جیسے کسی دریا میں سرِ آب پرندے Read More »

ٹھہر جاتے ہیں کہ آدابِ سفر جانتے ہیں

Tehar Jaatay Hain kay Adaab e safar jaanty Hain غزل ٹھہر جاتے ہیں کہ آدابِ سفر جانتے ہیںورنہ منزل کو بھی ہم راہگزر جانتے ہیں نامُرادانِ محبت کو حقارت سے نہ دیکھیہ بڑے لوگ ہیں جینے کا ہنر جانتے ہیں شرطِ ویرانی سے واقف ہی نہیں شہر کے لوگدر و دیوار بنا کر اسے گھر

ٹھہر جاتے ہیں کہ آدابِ سفر جانتے ہیں Read More »

زندگی عشق کے سب سود و زیاں بھول گئی

Zindagi Ishq Kay Sab Sood o ziaaN bhool Gaee غزل زندگی عشق کے سب سود و زیاں بھول گئیکارِ دل بھول گئی کارِ جہاں بھول گئی دربدر ٹھوکریں کھا کر مری آشفتہ سریلوٹ کر آئی تو خود اپنا مکاں بھول گئی اب کبھی آئے تو بیکانہ گزر جاتی ہےشامِ فرقت تری یادوں کا سماں بھول

زندگی عشق کے سب سود و زیاں بھول گئی Read More »

شوقِ بے حد، غمِ دل ، دیدہ تر مل جائے

Shooq Bay Had Gham e Dil Deeda e Tar Mil Jayee غزل شوقِ بے حد، غمِ دل ، دیدہ تر مل جائےمجھ کو طیبہ کے لیے رختِ سفر مل جائے نامِ احمد ﷺ کا اثر دیکھ جب آئے لب پرچشمِ بے مایہ کو آنسو کا گُہر مل جائے چشمِ خیرہ نگراں ہے رُخِ آقا کی

شوقِ بے حد، غمِ دل ، دیدہ تر مل جائے Read More »

یوں نہ سیکھا تھا گریز اہلِ سفر نے پہلے

Yoon Na Seekha Tha Gureez Ahl e Safar Nay Pehlay غزل یوں نہ سیکھا تھا گریز اہلِ سفر نے پہلےقافلے آتے تھے منزل پہ ٹھہرنے پہلے میرے اندر جو خموشی تھی وہ باہر گونجیدلِ ویراں کی خبر دی مجھے گھر نے پہلے کھیل طفلی میں کٹی اور تھے لیکن مجھ کواپنا دیوانہ کیا رقصِ شرر

یوں نہ سیکھا تھا گریز اہلِ سفر نے پہلے Read More »

شب کو یہ سلسلہ ہے برسوں سے

Shab ko Yeh Silsila Hay barsoo say غزل شب کو یہ سلسلہ ہے برسوں سےگھر کا گھر جاگتا ہے برسوں سے جانے کیا ہے کہ اس ندی کے پاراک دیا جل رہا ہے برسوں سے چلنے والے رکے رہیں کب تکراستہ بن رہا ہے برسوں سے روز مل کر بھی کم نہیں ہوتادل میں وہ

شب کو یہ سلسلہ ہے برسوں سے Read More »