Laboon per ab Gham e dil ko Kabhi Sajta Nahi dekha
غزل
لبوں پر اب غمِ دل کو کبھی سجتا نہیں دیکھا
رہا یہ درد میرا ہی کہیں بٹتا نہیں دیکھا
مری پلکوں نے پایا ہے ہنر گوہر چھپانے کا
کسی نے آنکھ سے موتی مری گرتا نہیں دیکھا
سبب اپنی انا کے کچھ کہے بن مر ہی جاتے ہیں
کوئی اب ضبطِ الفت میں مگر مرتا نہی دیکھا
بڑے اسرار ہیں انسان میں گر کھوج کر دیکھیں
ادھر اس دورِ حاضر میں کوئی سادا نہیں دیکھا
نہیں ہے تاب سننے کی جو سنتے ہیں وہ جلتے ہیں
پڑا شہتیر آنکھوں کا کبھی نکلا نہیں دیکھا
یہاں دعویٰ مسیحائی کا ھے ہر اک بشر کو پر
کسی کی آگ میں دوجا کوئی جلتا نہیں دیکھا
حسیں ہے زیست اب ہم بھی گزاریں گے یہاں ہنس کر
الم تادیر دنیا میں کبھی رکتا نہیں دیکھا
ذخیرہ لے کے خواہش کا یہیں ہم بیٹھ جائیں گے
مرصع تخت ہو طاؤس سے زہرا نہیں دیکھا
زہرہ مغل
Zehra Mughal