Chupaoo Gay Ashkoo ki Barsaat Kab Tak
غزل
چھپاؤ گےاشکوں کی برسات کب تک
محبت کی زائل علامات کب تک
کبھی آتشِ حسن سے آنکھ تاپی
حرارت کے دل میں ہیں جذبات کب تک
کبھی بعد مدت کے ہم یاد آئیں
ہو پانی میں عکسِ ملاقات کب تک
تمہیں چین لینے نہیں دینگی یادیں
وہ بھیگے کا لمسِ مراعات کب تک
کوئی نقش ہونگے نہاں جا بجا بھی
گئے وقت جیسے مضافات کب تک
ہو زہرہ نشاں نقش کچھ تو جبیں پر
سخنور کو کافی ہو سوغات کب تک
زہرہ مغل
Zehra Mughal