MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں

Jaany kissi nay kiaa Kaha Teez Hawa kay shoor main غزل جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میںمجھ سے سنا نہیں گیا تیز ہوا کے شور میں میں بھی تجھے نہ سن سکا، تو بھی مجھے نہ سن سکاتجھ سے ہوا مکالمہ تیز ہوا کے شور میں کشتیوں والے بے خبر بڑھتے […]

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں Read More »

بالائے طاق رکھے ہوئے ہوں خرد کو میں

Balayee Taaq Rakhay Hoyee Hoon Khirad Ko Main غزل بالائے طاق رکھے ہوئے ہوں خرد کو میںبس پار کر چکا ہوں محبت کی حد کو میں ہر اک سے احترام سے پیش آیا عمر بھردشنام سے بچاتا رہا اپنے جد کو میں شاید کہ اس لیے ہی جہاں مہربان ہےاس دل میں آنے دیتا نہیں

بالائے طاق رکھے ہوئے ہوں خرد کو میں Read More »

بےمعنی تعلق تو نہیں جوڑ , مجھے چھوڑ

Bay Maana taaluq to Nahi joor mujhay Choor غزل بےمعنی تعلق تو نہیں جوڑ , مجھے چھوڑاے ہجر مجھے ایسے نہ بھنبھوڑ , مجھے چھوڑ اک عمر کی محنت سے کیا ہے اسے پتھراب یونہی نہ دل کو مرے جھنجھوڑ , مجھے چھوڑ اس ادھ موئے شیطان کو قوت تو نہیں دےجا اور کہیں جا

بےمعنی تعلق تو نہیں جوڑ , مجھے چھوڑ Read More »

بیٹھ کر قوس پہ ، صَرصَر پہ لگامیں ڈالے

Beth kar qoos pa Sar Sar palagamee Dalay غزل بیٹھ کر قوس پہ ، صَرصَر پہ لگامیں ڈالےچاند کی سیر کریں بانہوں میں بانہیں ڈالے عشق للکارتا پھرتا ہے گلی کوچوں میںہے کوئی مرد ؟ مری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایسا دیوانہ کوئی ہے تو کہو نا اس سےشب کی دیوار میں آنکھوں سے دراڑیں

بیٹھ کر قوس پہ ، صَرصَر پہ لگامیں ڈالے Read More »

اسی وسیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے

اسی وسیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہےقلم قبیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے جو روز خواب میں اپنی طرف بلاتا ہےضرور ٹیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے کسی کے چہرے کی زردی کو دیکھ یاد آیاکہ رنگ پیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے اٹھا ہے بزم سے مجھ سے نظر چراتے

اسی وسیلے سے میرا بھی کچھ تعلق ہے Read More »

نہ ضعیفی تھی ، نہ صورت کوئی بیماری کی

Na Zaeefi thee Na Soorat koi beemari Kee غزل نہ ضعیفی تھی ، نہ صورت کوئی بیماری کیموت کے ڈر سے ہی ۔۔۔ مرنے کی اداکاری کی وصل کے پھول تو مسلے گئے جسموں کے تلےہجر نے برسوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہیں رہ کے عزاداری کی باغبانوں کی ہوس کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نتیجہ ورنہپیڑ کو کاٹتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ ضعیفی تھی ، نہ صورت کوئی بیماری کی Read More »

حکمرانی لی برائے خُرد بُرد

Hukmuraani Li Barayee Khurd Burd غزل حکمرانی لی برائے خُرد بُردکچھ نہیں ہے یاں سزائے خُرد بُرد لو جی سب وزراء اکٹھے ہو گئےکھل گئی دیکھو سرائے خُرد بُرد محکمہ سرکار کا ہے تو یہاںکام کیا ہو گا سوائے خُرد بُرد ناچتی ہے انگلیوں پر یہ عوامحکمرانوں کو نچائے خُرد بُرد بیچ کر ایمان میٹھی

حکمرانی لی برائے خُرد بُرد Read More »

غلط تاثر سماج میں ہے

Ghalat Taasur Samaaj Main Hay غزل غلط تاثر سماج میں ہےکہ برتری تخت و تاج میں ہے یہ کہہ کے گمراہ کر دیا ہےبرائی میرے مزاج میں ہے محبتوں کا بھی دور ہو گاابھی تو نفرت رواج میں ہے دوا بھی حاضر ہے اور دعا بھیتو کیا رکاوٹ علاج میں ہے حلال کا بھی عجب

غلط تاثر سماج میں ہے Read More »

آپ رہتے ہیں اس قدر خاموش

Aap Rehtay Hain Is qadar Khamoosh غزل آپ رہتے ہیں اس قدر خاموشلگنے لگتا ہے سارا گھر خاموش اب مری جان پر بنی ہوئی ہےاور ہے میرا ہم سفر خاموش میں نے دستک ہزار دی لیکنتیرے جیسا ہے تیرا در خاموش پھر کہانی کی بات مت کرنامار ڈالے نہ تم کو ڈر خاموش لب پہ

آپ رہتے ہیں اس قدر خاموش Read More »

جیسے چاہا تھا عمر ویسے تو چاہے نہ گئے

Jaisay Chaha Tha umar waisay tu Chahay na Gayee غزل جیسے چاہا تھا عمر ویسے تو چاہے نہ گئےوصل کے ہوتے ہوئے ہجر کے خدشے نہ گئے ساتھ رہنے کے ارادے سے ملے تھے لیکناس طرح بچھڑے کہ پھر ساتھ میں دیکھے نہ گئے اتنی شدت سے کیا وار نظر سے تو نےدل کے ٹکڑے

جیسے چاہا تھا عمر ویسے تو چاہے نہ گئے Read More »