MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آپ رہتے ہیں اس قدر خاموش

Aap Rehtay Hain Is qadar Khamoosh

غزل

آپ رہتے ہیں اس قدر خاموش
لگنے لگتا ہے سارا گھر خاموش

اب مری جان پر بنی ہوئی ہے
اور ہے میرا ہم سفر خاموش

میں نے دستک ہزار دی لیکن
تیرے جیسا ہے تیرا در خاموش

پھر کہانی کی بات مت کرنا
مار ڈالے نہ تم کو ڈر خاموش

لب پہ چپ تھی تو کچھ گزارا تھا
اب تو رہنے لگی نظر خاموش

مرحلے طے ہوئے محبت کے
ہاں، نہیں، پر، اگر، مگر خاموش

مجھ پہ سکتہ ہے فرشِ خاکی پر
وہ حسینہ ہے بام پر خاموش

بات لازم ہے چاہے کڑوی ہو
ایسے کٹتا نہیں سفر خاموش

چیختا ہے فراق آخرِ شب
بت کے جیسا ہے یہ عمر خاموش

عابد عمر

Aabid Umar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم