MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دیکھیں جو زمانے میں فراعین وغیرہ

Dekhain Jo Zamany Main Faraeeen waghaira غزل دیکھیں جو زمانے میں فراعین وغیرہہم ان کو سمجھتے ہیں شیاطین وغیرہ ہم نے بھی سمجھ لی ہے کنارہ کشی بہتراحباب ہوئے جب سے ہیں لا دین وغیرہ اظہار ہے بس آپ کی خصلت کے مطابقہم کرتے نہیں آپ کی توہین وغیرہ بسمل کو ذرا دیجیے مرنے کی […]

دیکھیں جو زمانے میں فراعین وغیرہ Read More »

اس کے کتنے چاہنے والے ہیں یارو ہر طرف

Us Kay Kitnay Chahnay Wally Hain Adaza Howa غزل اس کے کتنے چاہنے والے ہیں یارو ہر طرفاس کے در پر مار جب کھائی تو اندازہ ہوا عشق میرا دس برس سے کونسی منزل پہ ہےاس نے جب مجھ کو کہا بھائی تو اندازہ ہوا ہوتے ہیں کیوں فٹ کھلاڑی جاتے ہی ان فٹ کہیںمیری

اس کے کتنے چاہنے والے ہیں یارو ہر طرف Read More »

خاموش ہوئے ہم تو لہو بول پڑا ہے

Khamoosh Hoyee Ham tu lahoo bool Para غزل خاموش ہوئے ہم تو لہو بول پڑا ہےسب بولنے والوں کا گرو بول پڑا ہے میں سوچ رہا تھا کہ عدو ٹوٹ نہ جائےمیں دیکھ رہا ہوں کہ عدو بول پڑا ہے زنجیر کی آواز تو دم توڑ گئی تھیدامانِ عدالت کا رفو بول پڑا ہے ہم

خاموش ہوئے ہم تو لہو بول پڑا ہے Read More »

آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں

Aap Sultaan Howakejye Gada Ham bhi Nahi غزل آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیںاس قدر تو گئے گزرے بخدا ہم بھی نہیں اب انا کو کرے سجدہ تو محبت ہی کرےجبہہ سا آپ نہیں ناصیہ سا ہم بھی نہیں جائیے جائیے مت دیکھیے مڑ کر پیچھےایسے شوقینِ جفا خوارِ وفا ہم بھی نہیں

آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں Read More »

تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو

Tum jo Kahoo Munasib tum Jo Bataoo so Ho غزل تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہواب عشق ہو گیا ہے، میری بلا سے جو ہو سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھینیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!” نازک تھا آبگینہ پر کھیل کھیل ہی میںچوٹ ایسی پڑ گئی

تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو Read More »

کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا

Karoobaar Lahoo Ka hay apna jab hoyee ghaeel beech dia غزل کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیاگہ گوشوں میں لگی ہے بولی گہ سرِ محفل بیچ دیا تم اپنا سرمایہ جھونکو اہلِ زمانہ اور کہیںاونے پونے داموں ہی سہی ہم نے تو دل بیچ دیا زردئِ گل سے جان ہی لے

کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا Read More »

حد ہی نہیں ہے ورنہ حد سے گزر نہ جائیں

Had Hi Nahi Hay warna Had say Guzar na Jaeen غزل حد ہی نہیں ہے ورنہ حد سے گزر نہ جائیںہم عشق میں جئیں کیوں واللہ مر نہ جائیں اہلِ حرم ہمارے ایمان پر نہ جائیںکاغذ کے بیل بوٹے خوشبو سے ڈر نہ جائیں خلقت کی موت کے ہیں لاکھوں بہانے لیکنیہ تہمتیں بھی ظالم

حد ہی نہیں ہے ورنہ حد سے گزر نہ جائیں Read More »

ہے تو قدغن ہی مگر اس میں برا ہی کیا ہے؟

Hay tu Qadghan Hi Magar is main Bura Hi kia Hay غزل ہے تو قدغن ہی مگر اس میں برا ہی کیا ہے؟کچھ نہ کرنے کے سوا ہم نے کیا ہی کیا ہے؟ آ ، تجھے سلطنتِ دل کی ذرا سیر کراؤںتجھے معلوم نہیں ہے کہ تباہی کیا ہے؟ حال یہ ہے کہ خدا جھوٹ

ہے تو قدغن ہی مگر اس میں برا ہی کیا ہے؟ Read More »