MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہاتھ میں کاسہ اٹھایا دل پہ پتھر رکھ لیا

Hath main kaasa Uthaya dil pa pathar Rakh lia

غزل

ہاتھ میں کاسہ اٹھایا دل پہ پتھر رکھ لیا
تیرے غم کا مان ہم نے ٹھوکروں پر رکھ لیا

لگ نہ جائے پھر کہیں دامن کے پھولوں کو نظر
ہم نے ہر خارِ چمن دل میں چبھو کر رکھ لیا

وصل ہے کچھ اور شے انصاف ہے کچھ اور چیز
آپ نے تو فیصلے کا دن ہی محشر رکھ لیا

وسعتِ غم سے شناسائی بڑی بھاری پڑی
دل نے خود کو گردشِ عالَم کا محور رکھ لیا

کچھ بُتوں کی آمد و شد ہم کو بھی منظور تھی
کعبۂِ دل میں بھی کعبے کی طرح در رکھ لیا

رَوند ڈالا تھا سمجھ کر جس کو پَیروں نے سراب
پیاسی آنکھوں نے وہی نادیدہ منظر رکھ لیا

پُھرتیاں تو دیکھیے سجدہ گزاروں کی ذرا
قبلہ و کعبہ کو خود مسجد میں نوکر رکھ لیا

دل تو خیر اس بزم میں ہر ایک کا رکھا گیا
آپ کا ہم نے بھرم بھی بندہ پرور رکھ لیا

شیخ نے بھوکوں سے جنت بھی یہ کہہ کر چھین لی
رات فاقہ کیجیے روزہ تو دن بھر رکھ لیا

بت کدے راحیلؔ پاکستان میں جب ڈھے گئے
ہم نے ہر پتھر کو چوما چوم کر گھر رکھ لیا

راحیل فاروق

Raheel Farooq


Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم