MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا

Dua ko Haath Mra jab kabhi utha hooga غزل دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا قضاوقدر کا چہرہ اتر گیا ہوگا جو اپنے ہاتھوں لٹے ہیں بس اس پہ زندہ ہیں خدا کچھ ان کے لیے بھی تو سوچتا ہوگا تری گلی میں کوئی سایہ رات بھر اب بھی سراغ جنت گم گشتہ […]

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا Read More »

غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلا

Ghubbar e Dard say Sara badan atta nikla غزل غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلاجسے بھی خندہ بہ لب دیکھا غم زدا نکلا اب احتیاط بھی اور کیا ہو بے لباس تو ہوںاک آستین سے مانا کہ اژدہا نکلا مرے خلوص پہ شک کی تو کوئی وجہ نہیںمرے لباس میں خنجر اگر چھپا نکلا

غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلا Read More »

ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو

Hoonktay dasht main ik Gham ka samandar dekho غزل ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو تم کسی روز اگر دل میں اتر کر دیکھو نکلو سڑکوں پہ تو ہنستی ہوئی لاشوں سے ملو بند آنکھیں جو کرو قتل کا منظر دیکھو آنچ قربت کی نہ پگھلا دے کہیں تار نظر شعلۂ حسن کو

ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو Read More »

بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دے

Bahaar Ban kay Khazaan ko na yooun dilasa day غزل بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دےنگاہیں پھیر لے اپنی نہ خود کو دھوکا دے مصاف زیست ہے بھر دے لہو سے جام مرانہ مسکرا کے مجھے ساغر تمنا دے کھڑا ہوا ہوں سر راہ منتظر کب سےکہ کوئی گزرے تو غم کا

بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دے Read More »

گرد فراق غازہ کش آئنہ نہ ہو

Gard e Faraq e Ghaza kash e Aaeena na Hoo غزل گرد فراق غازہ کش آئنہ نہ ہو چاہو جو تم تو اپنے تصرف میں کیا نہ ہو سجدہ کے ہر نشاں پہ ہے خوں سا جما ہوا یارو یہ اس کے گھر کا کہیں راستہ نہ ہو زخموں کی مشعلیں لیے گزرا ہے دل

گرد فراق غازہ کش آئنہ نہ ہو Read More »

ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے

Her Insaan apnay Honay ki saza Hay غزل ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہےبھرے بازار میں تنہا کھڑا ہے نئے دربانوں کے پہرے بٹھاؤہجوم درد بڑھتا جا رہا ہے رہے ہم ہی جو ہر پتھر کی زد میںہماری سر بلندی کی خطا ہے مہکتے گیسوؤں کی رات گزریسوا نیزے پہ اب سورج کھڑا ہے

ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے Read More »

اس طلسم روز و شب سے تو کبھی نکلو ذرا

Iss Tlsm rooz o shab say tu kabhi nikloo zara غزل اس طلسم روز و شب سے تو کبھی نکلو ذراکم سے کم وجدان کے صحرا ہی میں گھومو ذرا نام کتنے ہی لکھے ہیں دل کی اک محراب پرہوگا ان میں ہی تمہارا نام بھی ڈھونڈو ذرا بدگمانی کی یہی غیروں کو کافی ہے

اس طلسم روز و شب سے تو کبھی نکلو ذرا Read More »

دیوار و در پہ رقص ہے بس موت کا یہاں

Deewaar o Dar pa Raqs Hay bus Moot ka yahan غزل دیوار و در پہ رقص ہے بس موت کا یہاں دیوانہ وار چومتے ہیں دار کو جواں کُھلتا گیا دریچہِ اسرارِ کُن فَکاں کُھلتا گیا تماشہِ عرفانِ دو جہاں ساقی یہ ساکنانِ خراباتِ بے نوا کرتے نہیں ہیں کیو‌ں غمِ انسان پر فغاں اُترا

دیوار و در پہ رقص ہے بس موت کا یہاں Read More »

جلتے ہوئے چمن کو بجھانا پڑے اگر

Jaltay Howay chaman ko Bachana Paray Agar غزل جلتے ہوئے چمن کو بجھانا پڑے اگر خوں سے تمہیں چراغ جلانا پڑے اگر؟ بیعت یزیدِ وقت کی کرنا نہیں کبھی اپنی ہی لاش تم کو اٹھانا پڑے اگر کیا ہو کہ گھیر لے تمہیں وحشی ہجوم یہ اور تم کو دیس چھوڑ کے جانا پڑے اگر؟

جلتے ہوئے چمن کو بجھانا پڑے اگر Read More »

روشنی کا کوئی امکان نہیں منظر میں

Rooshni Ka koi Imkaan nahi Manzar Main غزل روشنی کا کوئی امکان نہیں منظر میں رنگ بھرنا بھی تو آسان نہیں منظر میں غم کی یلغار ہے اک بخت کے مارے پہ مگر کوئی پرسہ نہیں، پرسان نہیں منظر میں میرے پاوں میں ہے زنجیرِ روایات پڑی ہاں روایات، جو عنوان نہیں منظر میں ایک

روشنی کا کوئی امکان نہیں منظر میں Read More »