MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں رشتہ لے کے بیٹے کا گیا تھا شاد آیا ہوں

Main Rishta lay kay Betay ka Gaya tha shaad aaya hoon قطعہ میں رشتہ لے کے بیٹے کا گیا تھا شاد آیا ہوںمرتب کرکے یارو اک نئی روداد آیا ہوں مرے بیٹے کی چوائس اور سلیکشن کا ہے کیا کہناسسر بننے گیا تھا بن کے میں داماد آیا ہوں حیدر حسنین جلیسی Haider Hussnain Jaleesi

میں رشتہ لے کے بیٹے کا گیا تھا شاد آیا ہوں Read More »

وہ کج کلاہ وہیں کی تو خاک چھانتے ہیں

wo kaj Kalaah waheen ki to khaak chantay Hain غزل وہ کج کلاہ وہیں کی تو خاک چھانتے ہیںجو رفعتیں تری گلیوں کی یار جانتے ہیں میں وار آئی تھی قدموں پہ زندگی جن کےوفا پرستی کو میری وہ خاک مانتے ہیں گلے لگایا مجھے اس نے اس طرح یاروکھلاڑی جیسے گلے مل کے ہار

وہ کج کلاہ وہیں کی تو خاک چھانتے ہیں Read More »

دیکھ باہر بلک رہی ہے رات

Dekh Bahar Bilak Rahi Hay Raat غزل دیکھ باہر بلک رہی ہے راتمثلِ بچہ ہمک رہی ہے رات قطرہ بن کر ٹپک رہی ہے راتبن کے خوشبو مہک رہی ہے رات چاند تارے تو اک طرف لیکنکس کے بل پر چمک رہی ہے رات گمشدہ دن تو مل نہیں پایاکیا ابھی تک بھٹک رہی ہے

دیکھ باہر بلک رہی ہے رات Read More »

بے ثمر پیڑ پہ پتھر نہیں آتے سچ ہے

Bay Samar peer pay pathar Nahi Aatay such hay غزل بے ثمر پیڑ پہ پتھر نہیں آتے سچ ہےپاس دریا کے سمندر نہیں آتے سچ ہے ہاتھ آیا ہے اسی آنکھ کا موتی یاروایسے مٹھی میں سمندر نہیں آتے سچ ہے ہم کو دکھلانا تھا مقصود تبھی تو ورنہاس طرح ڈھائی قلندر نہیں آتے سچ

بے ثمر پیڑ پہ پتھر نہیں آتے سچ ہے Read More »

ہائے اندیشہ یہ رسوائی کا

Haayee andeesha yeh Ruswaai Ka غزل ہائے اندیشہ یہ رسوائی کاچھوڑے پیچھا کہاں سودائی کا چاند جیسے ہے اکیلا اوپرحال ایسا مری تنہائی کا چین کی بنسی بجانے والودرد سمجھو کبھی شہنائی کا ہائے دشمن ہے تخیل میراراز کھولے مرے شیدائی کا دیکھ آواز پلٹ آئی ہےکوئی اندازہ ہے گہرائی کا خیر ہو جشنِ طرب

ہائے اندیشہ یہ رسوائی کا Read More »

نہ زور سحر نہ ازن مکاشفات سے تھا

Na Zoor Sahr Na Izn e Mukashfaat say tha غزل نہ زور سحر نہ ازن مکاشفات سے تھا مرا وجود مرے اپنے حُسنِ ذات سے تھا نہ واسطہ تھا اُسے میرے حال زار سے کچھ نہ مجھ کو کام کوئی اُس کے التفات سے تھا حصارِ وقت ہویدا تجلیات سے تھا یہ آئینہ تو جھلا-

نہ زور سحر نہ ازن مکاشفات سے تھا Read More »

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

Bajayee Koi Shahnaee Mujhay Acha Nahi lagta غزل بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتامحبت کا تماشائی مجھے اچھا نہیں لگتا وہ جب بچھڑے تھے ہم تو یاد ہے گرمی کی چھٹیاں تھیںتبھی سے ماہ جولائی مجھے اچھا نہیں لگتا وہ شرماتی ہے اتنا کہ ہمیشہ اس کی باتوں کاقریباً ایک چوتھائی مجھے اچھا نہیں

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا Read More »

آج اس کی بے وفائی نے حیراں کیا مجھے

Aaj uski Baywafaee Nay Hairaan kia Mujhay غزل آج اس کی بے وفائی نے حیراں کیا مجھےوحشت نے دل کی اور پریشاں کیا مجھے تاریکیوں میں ڈوبی تھی بے نام زندگیالفت نے تیری شمع فروزاں کیا مجھے صحن چمن تھا برسوں سے اجڑا ہوا مراباد صبا نے پھر سے گلستاں کیا مجھے غزلوں میں اس

آج اس کی بے وفائی نے حیراں کیا مجھے Read More »

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا

Dua ko haath mra jab kabhi Utha Hooga غزل دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگاقضاوقدر کا چہرہ اتر گیا ہوگا جو اپنے ہاتھوں لٹے ہیں بس اس پہ زندہ ہیںخدا کچھ ان کے لیے بھی تو سوچتا ہوگا تری گلی میں کوئی سایہ رات بھر اب بھیسراغ جنت گم گشتہ ڈھونڈتا ہوگا جو

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا Read More »