MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تری وحشی حکومت سے مجھے بیشک بغاوت ہے

Tri wehshi Hukoomat Say Mujhay Bayshak Baghawat Hay غزل تری وحشی حکومت سے مجھے بیشک بغاوت ہے تری جھوٹی عدالت سے مجھے بیشک بغاوت ہے ترے کردار پر تھُو ہے تری تقریر پر لعنت درندانِ سیاست سے مجھے بیشک بغات ہے جو سر پر ہاتھ رکھ کر تم دوپٹہ کھینچ لیتے ہو تری ایسی محبت […]

تری وحشی حکومت سے مجھے بیشک بغاوت ہے Read More »

یہ جو آنکھوں میں لۓ اپنی کوٸی جام پھرے

Yeh jo Aankhoo Main lyee apni koi jaam phiray غزل یہ جو آنکھوں میں لۓ اپنی کوٸی جام پھرے اس سے کہ دو نہ سرِ بام سرِ شام پھرے کیا یہ رسواٸی ہماری بھی نہیں ہے جاناں؟ اتنے آشفتہ سروں میں جو ترا نام پھرے ہم تھے دیوانے فقط دید کی حسرت لے کر تیرے

یہ جو آنکھوں میں لۓ اپنی کوٸی جام پھرے Read More »

مجھے اور دے او ساقی کہیں میں سنبھل نہ جاٶں

Mujhay Aur Day ao saaqi Kaheen Main sanbhal Na jaoon غزل مجھے اور دے او ساقی کہیں میں سنبھل نہ جاٶں مجھے ہوش آ نہ جاۓ کہیں میں بدل نہ جاٶں مرے سامنے یوں آ کر کوٸی آنسو مت بہانا ترے غم کو کھا نہ جاٶں میں تجھے نگل نہ جاٶں ابھی موج میں ہے

مجھے اور دے او ساقی کہیں میں سنبھل نہ جاٶں Read More »

مرے صحنِ دل کی وہ تازہ کلی ہو

Mry Sahan e Dil ki wo Taza Kali Ho غزل مرے صحنِ دل کی وہ تازہ کلی ہو جسے دیکھ کر ہی ملی زندگی ہو محبت محبت کہے جا رہی ہو محبت کے معنی ذرا جانتی ہو؟ تم آنکھیں جھپکتی نہیں ہو مری جاں مجھے یہ بتاٶ کہاں کھو گٸی ہو یہ آنکھوں کی سرخی

مرے صحنِ دل کی وہ تازہ کلی ہو Read More »

مری طرح سے بچھڑنا تم کو نہ راس آیا تو کیا کروگی؟

Mri Tarah say bicharna tum ko Na Raas Aaya tu kia Karo gi غزل مری طرح سے بچھڑنا تم کو نہ راس آیا تو کیا کروگی؟ ہر ایک پل میں تمہیں اگر میں جو یاد آیا تو کیا کروگی ابھی تو مجھ سے ہو تم گریزاں ابھی تو مجھ سے خفا خفا ہو قدم قدم

مری طرح سے بچھڑنا تم کو نہ راس آیا تو کیا کروگی؟ Read More »

اٹھے نہ گر ہم ابھی تلک تو خدا نے پوچھا تو کیا کہینگے؟

Uthay Na gar ham abhi talak tu Khuda Nay pocha tu kia Kahain Gay غزل اٹھے نہ گر ہم ابھی تلک تو خدا نے پوچھا تو کیا کہینگے؟ کہ تم بھی شامل گناہ میں ہو ؟ خدا نے پوچھا تو کیا کہینگے یہ قوم کیسے تڑپ رہی ہے بلک بلک کے جو جی رہی ہے

اٹھے نہ گر ہم ابھی تلک تو خدا نے پوچھا تو کیا کہینگے؟ Read More »

عشق اپنا عجب تماشہ ہے

Ishq Apna ajab Tamasha Hay غزل عشق اپنا عجب تماشہ ہےاک جہاں ہے کہ ہم کو تکتا ہے جیسے بے ماں کے طفل ہو یہ دلآج کچھ اس طرح سے سہما ہے تجھ کو پا کر بھی شاد کب تھا دلتجھ کو کھو کر بھی ہاتھ ملتا ہے آؤ اس دیس میں چلیں جس جاعشق

عشق اپنا عجب تماشہ ہے Read More »

رم جاودانہ غزل ہی تو ہے

Ram Jawadana Ghazal hi to hay غزل رم جاودانہ غزل ہی تو ہےسرود شبانہ غزل ہی تو ہے نمایاں کیا جس نے اس دور کووہ حور یگانہ غزل ہی تو ہے نہاں جس میں صدیوں کی تشکیل ہےوہ زریں ترانہ غزل ہی تو ہے ادب کا اگر ارتقا ہے تو یہعروس زمانہ غزل ہی تو

رم جاودانہ غزل ہی تو ہے Read More »

صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھا

Sehra Ka koi phool Moatar to Nahi Tha غزل صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھاتھا ایک چھلاوا کوئی منظر تو نہیں تھا پھر کیوں تری تصویر ڈھلی روح میں میریافسوں تری آنکھوں کا مصور تو نہیں تھا بن کر مرا اپنا وہ بنا حسرت جاویدتھا خاک کا پتلا ہی مقدر تو نہیں تھا

صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھا Read More »

وہ شوخ دل و جاں کی تمنا تو نہ نکلا

Wo Shhokh Dil O Jaaa ki Tamna to na Nikla غزل وہ شوخ دل و جاں کی تمنا تو نہ نکلاشعلہ تو نہ نکلا وہ شرارا تو نہ نکلا محسوس کیا درد کے ہر روپ میں اس کوآواز کا افسوں کبھی جھوٹا تو نہ نکلا محرومیٔ جاوید نے دونوں ہی کو مارایہ راز محبت کوئی

وہ شوخ دل و جاں کی تمنا تو نہ نکلا Read More »