MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کہوں کیا میں حسن و جمال کی

Kahoon kia main Husn o Jamal ki غزل کہوں کیا میں حسن و جمال کیوہ مصوری ہے کمال کی جو ہے چاندنی میں غزل سرااسے کیا خبر مرے حال کی مری شاعری میں ہے اور کیاوہی بات ہجر و وصال کی جو مثال ہو سرِ آئنہاسے کیا طلب ہے مثال کی جو ہے مختصر سی […]

کہوں کیا میں حسن و جمال کی Read More »

بہار آئے خزاں آئے مگر میں بے خبر سا ہوں

bahaar aayee Khazaan aayee magar main bay khabar sa hoon غزل بہار آئے خزاں آئے مگر میں بے خبر سا ہوںکہیں کنجِ قفس میں بیٹھ کر میں روتا رہتا ہوں ہزاروں کوششوں کے بعد بھی تم بھول نہ پائےتمہارے دل کے گوشے میں کہیں خاموش بیٹھا ہوں تمہاری یاد رہ رہ کر ستاتی ہے مجھے

بہار آئے خزاں آئے مگر میں بے خبر سا ہوں Read More »

چھپے غم کا اظہار ہوتے ہیں آنسو

Chuppay Gham ka Izhaar Hoty hain aanso غزل چھپے غم کا اظہار ہوتے ہیں آنسوبھلے سوئیں ہم پر نہ سوتے ہیں آنسو عجب سا ہے رشتہ نگاہوں کا ان سےجو ہنس دیں نگاہیں تو روتے ہیں آنسو کبھی یہ ہنسی میں چھپاتے ہیں خود کوکبھی ہنستے ہنستے بھی روتے ہیں آنسو ان ہی سے تو

چھپے غم کا اظہار ہوتے ہیں آنسو Read More »

حسرت رہی کبھی تو وہ بے حجاب آئے

Hasrat Rahi Kabhi to wo bay hijjab aayee غزل حسرت رہی کبھی تو وہ بے حجاب آئےلیکن وہ جب بھی آئے ڈالے نقاب آئے نظریں ملی تھیں اک پل اس کا اثر تھا شایدصندل کے رخ پہ جیسے تازہ گلاب آئے پتھر پگھل گئے تھے گرمی نگاہ میں تھیاب لوٹ کر کہاں سے ایسا شباب

حسرت رہی کبھی تو وہ بے حجاب آئے Read More »

دنیا کا اعتبار بھی مایا دکھائی دے

Dunya ka aitbaar bhi mayya Dikaai Day غزل دنیا کا اعتبار بھی مایا دکھائی دےاپنا وجود دھوپ میں سایا دکھائی دے شیشے میں اپنا چہرہ بھی اب اجنبی لگےدل پر کسی کی سوچ کا پہرہ دکھائی دے کہتے ہیں جس کو اشکِ پریشاں ستم ظریفہم کو تو بہتے خون کا دریا دکھائی دے کیسے یقین

دنیا کا اعتبار بھی مایا دکھائی دے Read More »

دِل میں حٙسرت ، خواب آنکھوں میں ، طلب دیدار کی

Dil Main Hasrat Khowab Aankhoo Main Talab Deedar ki غزل دِل میں حٙسرت ، خواب آنکھوں میں ، طلب دیدار کیمُختصٙر سی ہے کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بٙس ہمارے پیار کی کِھینچ پاتا کاش! ۔۔۔۔۔۔۔ میں تصویر حُسن ِ یار کیشربتی آنکھوں کی ۔۔۔۔۔۔۔ اُن دٙہکے لٙب و رُخسار کی ” جٙوہر ِ قابل ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تِرے

دِل میں حٙسرت ، خواب آنکھوں میں ، طلب دیدار کی Read More »

بنا کر توڑ دیتا ہوں میں اک تصویر پتھر کی

Bana Kar toor Detta Hoon main ik Tasveer pathar ki غزل بنا کر توڑ دیتا ہوں میں اک تصویر پتھر کی کہ بن جاتی ہے صورت روز اک وحشی ستمگر کی ستم پر مت ستم کیجئے کہ اک محشر متعین ہے خدا جانے کہ کیسی ہو وہاں حالت ترے سر کی مری آنکھوں کی سرخی

بنا کر توڑ دیتا ہوں میں اک تصویر پتھر کی Read More »

ذرا سا غور سے دیکھا تو دیواروں پہ لکھا تھا

Zara Sa Ghoor Say Dekha tu Deewaroo pa likha tha غزل ذرا سا غور سے دیکھا تو دیواروں پہ لکھا تھا یہاں سب کچھ بکاؤ ہے یہاں منصف بھی بکتے ہیں ۔ کسی حق گوئی کو سن کر بغاوت تو کروں لیکن یہاں جب بولی لگتی ہے تو یہ ہاتف بھی بکتے ہیں بہت سی

ذرا سا غور سے دیکھا تو دیواروں پہ لکھا تھا Read More »

یہاں آٹا نہیں ملتا محبت بھاڑ میں جاۓ

Yahan Aata Nahi Milta Mohabat Bhaar Main jayee غزل یہاں آٹا نہیں ملتا محبت بھاڑ میں جاۓ کسی کا دل نہیں کھلتا محبت بھاڑ میں جاۓ محبت یہ محبت وہ بڑی تقریریں کرتا ہے تُو ممبر سے نہیں ہِلتا محبت بھاڑ میں جاۓ یہاں سب نوچنے والے مسیحا ہی نہیں ملتا کوٸی جگرا نہیں سلتا

یہاں آٹا نہیں ملتا محبت بھاڑ میں جاۓ Read More »