Tri wehshi Hukoomat Say Mujhay Bayshak Baghawat Hay
غزل
تری وحشی حکومت سے مجھے بیشک بغاوت ہے
تری جھوٹی عدالت سے مجھے بیشک بغاوت ہے
ترے کردار پر تھُو ہے تری تقریر پر لعنت
درندانِ سیاست سے مجھے بیشک بغات ہے
جو سر پر ہاتھ رکھ کر تم دوپٹہ کھینچ لیتے ہو
تری ایسی محبت سے مجھے بیشک بغاوت ہے
ابھی تو خانہ خالی ہے ابھی کچھ قرضداری ہے
تری ہر اک شکایت سے مجھے بیشک بغاوت ہے
یہ جو آباد کوٹھے ہیں تری دولت پہ مبنی ہیں
فحاشت کی ثقافت سے مجھے بیشک بغاوت ہے
یہاں پر جسم کے بازار چوراہوں پہ لگتے ہیں
وطن کی ایسی حالت سے مجھے بیشک بغاوت ہے
طاسین سمندر
Taseen Samandar