MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

غم پرندہ جو پہلی اڑانوں سے بڑھ کر اڑا ‘ تیز ہے

Gham Parinda Jo pehli Uraano say Barh kar Ura Teez Hay غزل غم پرندہ جو پہلی اڑانوں سے بڑھ کر اڑا ‘ تیز ہے میرا شک سچ ہے یعنی ؛ محبت سے دکھ کی ہوا تیز ہے شہد سی اس کی باتوں میں تلخی کہاں سے چلی آئی تھی ساری شیرینی جاتی رہی ہے نمک […]

غم پرندہ جو پہلی اڑانوں سے بڑھ کر اڑا ‘ تیز ہے Read More »

ایسی وحشت ناک جلن ہے آگ لگی ہو گویا

Ayesi Wehshat Naak Jalan Hay aag lagi ho Goya غزل ایسی وحشت ناک جلن ہے آگ لگی ہو گویا سینے اندر دہک اٹھی ہے , رب جانے کی ہویا باپ کی کرنی بیٹا نا بیٹے کی باپ اٹھاوے یہ رب کا دستور ہے , سب نے کاٹا اپنا بویا راتاں جاگن والیاں نوں یا موت

ایسی وحشت ناک جلن ہے آگ لگی ہو گویا Read More »

آوازوں کے شور سے بچنا پڑتا ہے

Awazoo kay shoor say bachna Parta Hay غزل آوازوں کے شور سے بچنا پڑتا ہے سیدھا پیر رکھوں تو الٹا پڑتا ہے اپنے آپ کو واپس لا سکتی ہوں میں لیکن تیرا نام بلانا پڑتا ہے چپہ چپہ جال بچھائے دشمن نے سنبھل سنبھل کر قدم اٹھانا پڑتا ہے اس پر پیار کا جادو کرتے

آوازوں کے شور سے بچنا پڑتا ہے Read More »

بس ایک میں تھی کوئ دوسرا نہ تھا مرے ساتھ

Bus Aik Main Thee koi doosra no tha mry sath غزل بس ایک میں تھی کوئ دوسرا نہ تھا مرے ساتھ پھر اس نے ہاتھ بڑھایا , کہا کہ آ مرے ساتھ وہ ایک , آدھی گواہی بھی کب سنی گئی تھی کوئی نہ بولا تو بولا مرا خدا مرے ساتھ انہیں خبر تھی کہ

بس ایک میں تھی کوئ دوسرا نہ تھا مرے ساتھ Read More »

بدن کا ملبہ تہہِ خاک سے اٹھاتے ہوئے

Badan Ka Malba Tah e khak say Uthaty Hoyee غزل بدن کا ملبہ تہہِ خاک سے اٹھاتے ہوئے وہ رو پڑا مرے جیسا کوئی بناتے ہوئے یہ کون عکس تھا آنکھوں میں مثلِ نقشِ ہنوط کہ آنکھ ڈرنے لگی خواب تک سجاتے ہوئے نہ جانے کیوں مری آنکھوں سے نم پھسلنے لگا جب اس نے

بدن کا ملبہ تہہِ خاک سے اٹھاتے ہوئے Read More »

بےقراری کا تصور رائگاں ہے ان دنوں

Bay Qarari Ka Tasawer Raigaan Hay In dionoo غزل بےقراری کا تصور رائگاں ہے ان دنوں دشمنِ جان و جگر ہی جانِ جاں ہے ان دنوں کشتیوں کو خوفِ طوفاں کا گماں ہے ان دنوں پر سکوں لہریں ہیں اور امن و اماں ہے ان دنوں شاہراہوں سے ذرا بچ کر گزارو قافلہ حادثہ ہر

بےقراری کا تصور رائگاں ہے ان دنوں Read More »

لرزہ ہوا ہے طاری شعراء کے فکروفن میں

Larza Howa Hay Tarri Shuraa kay fikr o Fan main غزل لرزہ ہوا ہے طاری شعراء کے فکروفن میں یہ کون آ رہا ہے غزلوں کی انجمن میں نقش ونگار اتنے دیکھے ہیں اس بدن میں ایسا سراپا آنا مشکل ہے حسن ظن میں کیسے نظر لگےگی, مجبور ہے نظر خود تارے چمک رہے ہیں

لرزہ ہوا ہے طاری شعراء کے فکروفن میں Read More »

حضورِ شاہ میں دیکھو مقدّروں کا سفر.

Huzoor Shah main dekho muqadroo ka safar غزل حضورِ شاہ میں دیکھو مقدّروں کا سفر. یہیں سے ہوتا ہے جاری گداگروں کا سفر ہےکس بلندی پہ فایز قلندروں کا سفر کہ سر کو ہاتھ پہ رکّھے ہے بے سروں کا سفر یہ سوچ کر ترے کوچے میں آن بیٹھا ہوں یہیں پہ آ کے روُکےگا

حضورِ شاہ میں دیکھو مقدّروں کا سفر. Read More »