جب گل کی قباؤں سے گلشن میں صبا الجھی
Jab Gul ki Qabaoon say Gulshan ki Hawa Uljhi غزل جب گل کی قباؤں سے گلشن میں صبا الجھی ہاتھوں کی لکیروں سے رہ رہ کے حنا الجھی احساسِ دمیدہ کے الفاظ دریدہ ہیں ہونٹوں پہ تصور کی آ آ کے دعا الجھی یہ تشنہ لبی دیکھو ساغر کے کھنکتے ہی شیشے میں پری اتری […]
جب گل کی قباؤں سے گلشن میں صبا الجھی Read More »