MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب گل کی قباؤں سے گلشن میں صبا الجھی

Jab Gul ki Qabaoon say Gulshan ki Hawa Uljhi غزل جب گل کی قباؤں سے گلشن میں صبا الجھی ہاتھوں کی لکیروں سے رہ رہ کے حنا الجھی احساسِ دمیدہ کے الفاظ دریدہ ہیں ہونٹوں پہ تصور کی آ آ کے دعا الجھی یہ تشنہ لبی دیکھو ساغر کے کھنکتے ہی شیشے میں پری اتری […]

جب گل کی قباؤں سے گلشن میں صبا الجھی Read More »

جو مری آنکھ میں بہتا ہوا دریا رکّھے

Jo mery Aankh main Behta Howa Darya Rakhy غزل جو مری آنکھ میں بہتا ہوا دریا رکّھے اُس ستم پیشہ مری جان کو الله رکّھے کبھی ہمدم کبھی محرم کبھی دلبر کبھی جاں یہ جنوں اُسکے لیئے نام بھی کیا کیا رکّھے رقصِ مے ہوتا رہا اور میں تکتا ہی رہا میرا ساقی مرا احساس

جو مری آنکھ میں بہتا ہوا دریا رکّھے Read More »

اوّل اوّل کا سبق پڑھ کے سبق میں گم ہے

Awal Awal ka sabq Prh y abaq main gum hay غزل اوّل اوّل کا سبق پڑھ کے سبق میں گم ہے دل پہ بن آئی تو دل اپنی رمق میں گم ہے چاند تو چھت پہ اتر آیا ہےلیکن اب تک چاند کا تارا بہت دور اُفق میں گم ہے اور کچھ دیر میں سورج

اوّل اوّل کا سبق پڑھ کے سبق میں گم ہے Read More »

آج بڑے نصیب سے در پہ جو حاضری ہوئی

Tazmeen آج بڑے نصیب سے در پہ جو حاضری ہوئی تارِ نظر میں مل گئی دل کی ہمارے یک سوئی جلوہ دکھا کے اب شہا کچھ تو مٹا دے یہ دوئی "رخ بنما کہ اے پری، صبحِ امیدِ من توٸی برقع کشا کہ اے صنم، جلوہِٕ عیدِ من توٸی” کیسے بتاؤں کتنا تُو شہد مقال

آج بڑے نصیب سے در پہ جو حاضری ہوئی Read More »

تابندگی میں بدرِ مُنیراں سے کم نہیں

Tabindagi Main Br e Muneeran say kam nahi غزل تابندگی میں بدرِ مُنیراں سے کم نہیں میرا صنم تو یوسفِ کنعاں سے کم نہیں ارض و سماں میں اُسکے ہی جلوے ہیں ہر طرف ہر شےؑ یہاں کی پرتٙوِ جاناں سے کم نہیں اُسکا جمالِ روےؑ مبیں دیکھنے کے بعد جو حال ہے وہ حالِ

تابندگی میں بدرِ مُنیراں سے کم نہیں Read More »

جب بھی ملتے ہو مجھے خاص بنا دیتے ہو

JAB BHI MILTY HO MUJHY KHAAS BNA D ETAY HO جب بھی ملتے ہو مجھے خاص بنا دیتے ہو مجھ میں چاہت کے حسیں پھول کھلا دیتے ہو سوجھتی کیا ہے تمہیں ایسی شرارت آخر شاخ پر بیٹھے پرندوں کو اڑا دیتے ہو کیا تمہیں کم ہے میری شمع محبت کی ضیا میرے ہو تے

جب بھی ملتے ہو مجھے خاص بنا دیتے ہو Read More »

غم بھلانے ہیں زندگی کے مجھے

Gham Bhulany Hain zindgi kay Mujhy غزل غم بھلانے ہیں زندگی کے مجھے کا م آ نا ہے ہر کسی کے مجھے اس کا احسان کس طرح بھولوں جس نے تحفے دیے ہنسی کے مجھے تیرگی کے سفر میں ہیں درپیش کچھ دیے دل کی روشنی کے مجھے میں نے بچپن میں جو سنے تھےکبھی

غم بھلانے ہیں زندگی کے مجھے Read More »

دل اندر سے تنہا اچھا لگتا ہے

Dil andar say Tanha acha lagta hay غزل دل اندر سے تنہا اچھا لگتا ہے جیسے خالی کمرہ اچھا لگتا ہے بات اگر کچھ ہے تو وہ احساس کی ہے ورنہ دل کب ٹوٹا اچھا لگتا ہے گہنے پیار کے ہوں تو ان کے آگے پھر کس کو چاندی سونا اچھا لگتا ہے دل گلیوں

دل اندر سے تنہا اچھا لگتا ہے Read More »

سمندر راز داں میرا

SAMANDAR RAAZDAAN MERA نظم سمندر راز داں میرا میں اپنے دل کی اک اک داستاں اُس کو سناتی ہوں خوشی محسوس کرتی ہوں جب اُس سے مل کے آتی ہوں بہت ہی غور سے وہ میری ساری باتیں سنتا ہے خموشی کی زباں میں وہ بھی مجھ سے بات کرتا ہے میں اس کو سب

سمندر راز داں میرا Read More »

مجھ کو خود میں چھپا کے رکھتا ہے

Mujh ko khud main chuppa kay Rakhta Hay غزل مجھ کو خود میں چھپا کے رکھتا ہے دھڑکنوں میں بسا کے رکھتا ہے ہے وہی کامیاب، اپنی ہنسی جو لبوں پر سجا کے رکھتا ہے دل بھی کیا ہے جو اس کی یادوں کے کچھ گھروندے بنا کے رکھتا ہے وہی گرتا ہے دل کی

مجھ کو خود میں چھپا کے رکھتا ہے Read More »