MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو مری آنکھ میں بہتا ہوا دریا رکّھے

Jo mery Aankh main Behta Howa Darya Rakhy

غزل

جو مری آنکھ میں بہتا ہوا دریا رکّھے
اُس ستم پیشہ مری جان کو الله رکّھے

کبھی ہمدم کبھی محرم کبھی دلبر کبھی جاں
یہ جنوں اُسکے لیئے نام بھی کیا کیا رکّھے

رقصِ مے ہوتا رہا اور میں تکتا ہی رہا
میرا ساقی مرا احساس بھی پیاسہ رکّھے

اپنے بارے میں اُسے کیسے بتائیں جاکر
شہر کے شہر کو جو شخص شناسا رکّھے

اُس سے تم شکوہء تکمیلِ وفا مت کرنا
اُسکی عادت ہے وہ ہرکام ادھورا رکّھے

پیرہن جس پہ کرے ناز تکبُّر کی طرح
آئینہ کیسے بھلا اُسکا سراپا رکّھے

حسن پہ جس کے تصددُّق ہوں قصیدے سارے
کیوں وہ احسان "ضیا” سوچو تمہارا رکّھے

سید محمد ضیا علوی

Syed Mohammad Zia Alvi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم