MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہوائیں گنگناتی ہیں اگر ہم تم سے ملتے ہیں

Hawaeen Gungunaati Hain agar ham tum sy milty Hain غزل ہوائیں گنگناتی ہیں اگر ہم تم سے ملتے ہیں وفا کے گیت گاتی ہیں اگر ہم تم سے ملتے ہیں چمن میں پھول کھلتے ہیں محبت رقص کرتی ہے فضائیں جگمگاتی ہیں اگر ہم تم سے ملتے ہیں وہ گھڑیاں جو کبھی ہم کو جدا […]

ہوائیں گنگناتی ہیں اگر ہم تم سے ملتے ہیں Read More »

زمیں کے ساتھ لکھا آسمان کاغذ پر۔

Zameen kay sath likha aasman kaghaz per غزل ۔۔زمیں کے ساتھ لکھا آسمان کاغذ پر۔۔۔۔سجائے بیٹھے ہیں دونوں جہان کاغذ پر۔۔ ستارے۔پھول۔دھنک۔چاندنی۔صبا لکھے۔۔۔۔بنا کے رنگوں سے اپنا مکان کاغذ پر۔۔ ۔۔میں جو لکھوں اسے ویسا ہی رہنے دیتا ہے۔۔۔۔میں کیا بتاؤں کہ کتنا ہے مان کاغذ پر۔۔ ۔۔جو تم ہمیشہ یونہی بال و پر تراشوگے۔۔۔۔پرندے

زمیں کے ساتھ لکھا آسمان کاغذ پر۔ Read More »

مجھے کیا غرض کسی سے کوئی نیک ہو کہ بد ہو-

Mujhay kia gharaz kissi say koi naik ho kay bad Ho غزل مجھے کیا غرض کسی سے کوئی نیک ہو کہ بد ہو جو دلیل پیش ہو وہ بحوالہ مستند ہو مری دوستی کے لائق وہی شخص ہوگا جس کے نہ فریب و مکر دل میں، نہ ہی نفس میں حسد ہو کریں کیا جو

مجھے کیا غرض کسی سے کوئی نیک ہو کہ بد ہو- Read More »

عجب حالت ہوئی میری فراقِ دشمنِ جاں میں

Ajab Halat hoi meri furaq e dushman e jaan main غزل عجب حالت ہوئی میری فراقِ دشمنِ جاں میں مقید ہو گیا ہوں جیسے تنہائی کے زنداں میں مجھے کیا مطمئن کر پائے گی لمحات کی بارش نہاں ارماں ہزاروں ہیں مرے ہر ایک ارماں میں تم اس کے نیک بندوں کو جو دنیا میں

عجب حالت ہوئی میری فراقِ دشمنِ جاں میں Read More »

تم سا نہیں جہان میں کوئی گہر حسیں

Tum Sa Nahi Jahan main koi guhar Haseen غزل تم سا نہیں جہان میں کوئی گہر حسیں دیکھو مری نظر سے ہو تم کس قدر حسیں ورنہ تو جیسے خانہء ویراں تھا اب تلک تم نے قدم رکھا تو ہوا ہے یہ گھر حسیں ہمراہ تیرے جس پہ چلا تھا میں دو قدم لگتی ہے

تم سا نہیں جہان میں کوئی گہر حسیں Read More »

کھلکھلانے سے، نہ ہنسنے مسکرانے سے غرض

Khilkhilany say na Hansnay Muskurany say Gharaz غزل کھلکھلانے سے، نہ ہنسنے مسکرانے سے غرض چشم نم کو بزم اشکوں کی سجانے سے غرض کتنا سمجھایا کہ خوابوں میں نہ آیا کر مرے لیکن اس کو ہے مری نیندیں چرانے سے غرض رہبران قوم واقف ہیں ہر اک سچائی سے پر دکاں ان کو سیاست

کھلکھلانے سے، نہ ہنسنے مسکرانے سے غرض Read More »

آہ و فغاں کی جھیل میں خود کو ڈبو کے رہ

Aah o FughaN ki jheel Main Khud Ko Duboo kay Rah غزل آہ و فغاں کی جھیل میں خود کو ڈبو کے رہ ہے عشق کا جنون تو آنکھیں بھگو کے رہ دینی اگر ہے کارِ جنوں کوہی فوقیت صحرا کی خاک چھان پریشان ہو کے رہ یہ کب کہا کہ میرے لئے چھوڑ دے

آہ و فغاں کی جھیل میں خود کو ڈبو کے رہ Read More »