Zalim Tha Kal Talak jo Mazloom Aaj Kal hay
غزل
ظالم تھا کل تلک جو مظلوم آج کل ہے
معصوم آج کل ہے معصوم آج کل ہے
دیوانگی میں اپنی ایسا گرا ستم گر
زخموں کو دیکھ کر خود مغموم آج کل ہے
اپنے زوال کی خود زندہ مثال ہے یہ
جو بادشاہ تھا کل تک محکوم آج کل ہے
عالم ادیب خود کو یکتا سمجھنے والا
علم و ادب سے بیشک معدوم آج کل ہے
اللہ بچائے تیری چارہ گری سے سب کو
تیری ستم گری کی کچھ دھوم آج کل ہے
نادان تھے جو کل تک ہر گز سمجھ نہ پائے
باتوں کا آپ کی جو مفہوم آج کل ہے
کیا شازیہ کرے اب بادِ صبا کی باتیں
موسم حسین دل کا مغموم آج کل ہے
شازیہ طارق
Shazia Tariq