MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھا

دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھاجو مرے ہم راہ تھا لیکن مرا سایہ نہ تھا سوچ کا طوفان شادابی بہا کر لے گیاایسا لگتا ہے کہ یہ چہرہ کبھی میرا نہ تھا موسم گل میں ہوائیں جیسے پتھرائی رہیںخوشبوؤں کا کوئی جھونکا اس طرف آیا نہ تھا یوں اچانک جاگ […]

دفعتاً بچھڑے گا وہ بھی دل کو یہ دھڑکا نہ تھا Read More »

وہ ماہتاب جب اس گھر سے گھر بدلنے لگا

وہ ماہتاب جب اس گھر سے گھر بدلنے لگاستارے ٹوٹ گئے آسمان جلنے لگا ٹھہر گئے تو نہ تھا کوئی پوچھنے والاجو ہم چلے تو زمانہ بھی ساتھ چلنے لگا دیار درد کی رسم و رہ وفا ہے یہینگاہ ڈوبی دہن بھی لہو اگلنے لگا نشانۂ ستم روزگار تھا پر ابدکھوں کا زہر مرے جسم

وہ ماہتاب جب اس گھر سے گھر بدلنے لگا Read More »

دور خزاں میں جشن بہاراں دکھائی دے

دور خزاں میں جشن بہاراں دکھائی دےاب چاک چاک اپنا گریباں دکھائی دے کب تک رہیں گے ساحل و طوفاں کے درمیاںکب تک یہ زندگی ہمیں زنداں دکھائی دے میرے خدا سزا و جزا اب یہاں بھی ہویہ سرزمیں بھی عدل کا عنواں دکھائی دے اس دور گمرہی کی ضرورت ہے نوح کیساحل بدست پھر

دور خزاں میں جشن بہاراں دکھائی دے Read More »

دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے

دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھےمیری محبتوں کا صلہ لے گیا مجھے ویران اس نظر نے کیا مجھ کو اور پھرتنہائیوں کا دشت بہا لے گیا مجھے یاں بھی وہی زمین وہی آسماں ملامیں سوچتا رہا کہ وہ کیا لے گیا مجھے اک بار بھی وہ مجھ سے مخاطب نہیں ہوااس کے قریب

دشت جنوں میں آبلہ پا لے گیا مجھے Read More »

خلوص‌‌ و فکر کی یہ روشنی کہاں تک ہو

خلوص‌‌ و فکر کی یہ روشنی کہاں تک ہومیں سوچتا ہوں تری چاندنی کہاں تک ہو جدا رہو گی مگر کس لئے کدھر کب تکمجھے پتہ تو چلے تم مری کہاں تک ہو کہاں زمین کہاں آسماں کہاں ہم تمیہی ہے فرق تو پھر دوستی کہاں تک ہو لہو لہو بھی ہوا پیرہن نظر میں

خلوص‌‌ و فکر کی یہ روشنی کہاں تک ہو Read More »

رستے پہ ظلم و جور کے چلنے لگے ہیں ہم

رستے پہ ظلم و جور کے چلنے لگے ہیں ہماب راہ رو کے خون پہ پلنے لگے ہیں ہم ممکن ہے کوئی بات غلط ہم سے ہو گئییا یوں ہی اپنا رنگ بدلنے لگے ہیں ہم جس کے لئے بنے تھے اسی رہ نورد کودیکھا جو مطمئن تو مچلنے لگے ہیں ہم جب طے ہوا

رستے پہ ظلم و جور کے چلنے لگے ہیں ہم Read More »

چھوڑ دے آسان رستہ زندگی دشوار کر

چھوڑ دے آسان رستہ زندگی دشوار کرجس طرف دریا چڑھا ہو اس طرف سے پار کر ڈوب کر کشتی کبھی ابھری نہیں پاتال سےجیتنا ممکن نہیں ہوتا ہے خود کو ہار کر پھر نظر آئیں گے اگلی منزلوں کے پیچ و خمدیکھ پانی میں اتر کر ہاتھ کو پتوار کر تشنگی ویراں دریچے مفلسی آہ

چھوڑ دے آسان رستہ زندگی دشوار کر Read More »

زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گی

زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گییہ خبر دیکھنا اب اور کدھر جائے گی کیا مری ذات تری فکر کو دے گی مہمیزکیا مری بات ترے دل میں اتر جائے گی لفظ بدلے ہیں تو معنی بھی بدلنا ہوں گےورنہ تعمیر کسی اور کے سر جائے گی روح اک دن تو بدن سے مرے

زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گی Read More »

ہاں عمر بھر کا ساتھ نبھانا اُسے بھی ہے

ہاں عمر بھر کا ساتھ نبھانا اُسے بھی ہےیہ معجزہ تو کر کے دکھانا اُسے بھی ہے میں ہی نہیں جو کارِ جنوں میں پڑا رہوںسن سن شبِ فراق رلانا اُسے بھی ہے ہر بار التجا پہ مری کان کیوں دھرےآخر نظامِ دہر چلانا اُسے بھی ہے دل سے اتر گیا تو کہانی تمام شددو

ہاں عمر بھر کا ساتھ نبھانا اُسے بھی ہے Read More »

چور آئے نہیں چور لائے گئے

چور آئے نہیں چور لائے گئےاور سروں پر ہمارے بٹھائے گئے علم کب تھا انہیں ہے مخالف ہوااس لیے تیر الٹے چلائے گئے سارے کردار ننگے پڑے دیکھ لورب کی جانب سے پردے اٹھائے گئے اُن کو تاریخ نے میر جعفر لکھاجو بھی دشمن کے دستے میں پائے گئے میں قلم سے حقائق کو لکھتا

چور آئے نہیں چور لائے گئے Read More »