MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھیلی ہوئی ہے دہر میں سب کوزہ گری ہے

پھیلی ہوئی ہے دہر میں سب کوزہ گری ہے
دل جس سے فروزاں ہے عجب کوزہ گری ہے

ایسے ہی نہیں ہوگئی تخلیق یہ دنیا
کر غور عوامل پہ سبب کوزہ گری ہے

اک نامِ محمد جوسماعت سے ہوا مس
تخلیق کی معراج پہ اب کوزہ گری ہے

لفظوں کے جھمیلے میں الجھتا ہوا شاعر
آنکھوں سے عیاں ہوتی طلب کوزہ گری ہے

قرآن کے اوراق میں ہے قصہء یوسف
حیراں تھا سبھی مصر غضب کوزہ گری ہے

آ تیری بھی تشکیل کیے دیتا ہوں پھر سے
برسات ہے توحید کی جب کوزہ گری ہے

اب خاک کی افلاک پہ ہونی ہے منادی
ماجد پہ کٹھن آخری شب کوزہ گری ہے

ماجد جہانگیر مرزا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم