شاطر حکیمی کا تعلق ناگ پور شہر سے تھا۔۔۔آپ بھی ترقی پسند شعراء و مصنفین کے گروہ کا حصہ تھے لیکن آپ کی خوبی ہے کہ ترقی پسند کہلوانے کے باوجود دیگر شاعروں کی طرح اپنے شعر کو بےباکی کا ذائقہ نہیں چکھنے دیا سماج پر گہری نظر رکھنے والے شاطر حکیمی کے اپنے تجربات کا رنگ ان کی شاعری میں نمایاں ہے اسی لئے ان کے اشعار فوراً متوجہ کر لیتے ہیں گو ان کی شاعری کا موضوع بھی زیادہ تر طوائف اور مزدور ہی ہیں لیکن شگفتہ لہجہ قاری کو متوجہ رکھتا ہے مگر شاطر حکیمی کی شاعری کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ انہوں نے عمر کے آخری حصے میں روایتی لہجہ اپنایا گل و بلبل کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے سینے میں بھی عشق ومحبت سے لبریز دل دھڑکتا تھا۔