MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں – Kisi ki qaid se azad hoke reh gaye hain

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیںتباہ ہو گئے برباد ہو کے رہ گئے ہیں اب اور کیا ہو تمنائے وصل کا انجامدل و دماغ تری یاد ہو کے رہ گئے ہیں کہیں تو قصۂ احوال مختصر یہ ہےہم اپنے عشق کی روداد ہو کے رہ گئے ہیں کسی کی یاد دلوں […]

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں – Kisi ki qaid se azad hoke reh gaye hain Read More »

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے – Maine ay dil tujhe seene se lagaya hua hai

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہےاور تو ہے کہ مری جان کو آیا ہوا ہے بس اسی بوجھ سے دوہری ہوئی جاتی ہے کمرزندگی کا جو یہ احسان اٹھایا ہوا ہے کیا ہوا گر نہیں بادل یہ برسنے والایہ بھی کچھ کم تو نہیں ہے جو یہ آیا ہوا ہے راہ

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے – Maine ay dil tujhe seene se lagaya hua hai Read More »

نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہم – Nazar arahe hain jo tanha se hum

نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہمسو یوں ہے کہ بھر پائے دنیا سے ہم نہ پروا ہمیں حال بے حال کینہ شرمندہ عمر گزشتہ سے ہم بھلا کوئی کرتا ہے مردوں سے باتکہیں کیا دل بے تمنا سے ہم نظر میں ہے جب سے سراپا تراجبھی سے ہیں کچھ بے سر و پا

نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہم – Nazar arahe hain jo tanha se hum Read More »

پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا – Paish jo aya sir sahil e shab batlaya

پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایاموج غم کو بھی مگر موج طرب بتلایا ہے بتانے کی کوئی چیز بھلا نام و نسبہم نے پوچھا نہ کبھی نام و نسب بتلایا رنگ محفل کا عجب ہو گیا جس دم اس نےخامشی کو بھی مری حسن طلب بتلایا دل کو دنیا سے سروکار کبھی تھا ہی

پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا – Paish jo aya sir sahil e shab batlaya Read More »

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز – Sham apni be maza jati hai roz

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روزاور ستم یہ ہے کہ آ جاتی ہے روز کوئی دن آساں نہیں جاتا مراکوئی مشکل آزما جاتی ہے روز مجھ سے پوچھے کوئی کیا ہے زندگیمیرے سر سے یہ بلا جاتی ہے روز جانے کس کی سرخ روئی کے لیےخوں میں یہ دھرتی نہا جاتی ہے روز گیت

شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز – Sham apni be maza jati hai roz Read More »

سنی ہے چاپ بہت وقت کے گزرنے کی – Suni hai chaap bohat waqt ke guzarne ki

سنی ہے چاپ بہت وقت کے گزرنے کیمگر یہ زخم کہ حسرت ہے جس کے بھرنے کی ہمارے سر پہ تو یہ آسمان ٹوٹ پڑاگھڑی جب آئی ستاروں سے مانگ بھرنے کی گرہ میں دام تو رکھتے ہیں زہر کھانے کویہ اور بات کہ فرصت نہیں ہے مرنے کی بہت ملال ہے تجھ کو نہ

سنی ہے چاپ بہت وقت کے گزرنے کی – Suni hai chaap bohat waqt ke guzarne ki Read More »

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں – Tere siwa kisi ki tamma karuga main

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میںایسا کبھی ہوا ہے جو ایسا کروں گا میں گو غم عزیز ہے مجھے تیرے فراق کاپھر بھی اس امتحان کا شکوہ کروں گا میں آنکھوں کو اشک و خوں بھی فراہم کروں گا میںدل کے لیے بھی درد مہیا کروں گا میں راحت بھی رنج، رنج بھی

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں – Tere siwa kisi ki tamma karuga main Read More »

زمیں پر آسماں کب تک رہے گا – Zameen par asman kab tak rahega

زمیں پر آسماں کب تک رہے گایہ حیرت کا مکاں کب تک رہے گا نظر کب آشنائے رنگ ہوگیتماشائے خزاں کب تک رہے گا رہے گی گرمیٔ انفاس کب تکرگوں میں خوں رواں کب تک رہے گا حقیقت کب اثر انداز ہوگیخسارے میں جہاں کب تک رہے گا بدل جائیں گے یہ دن رات اجملؔکوئی

زمیں پر آسماں کب تک رہے گا – Zameen par asman kab tak rahega Read More »

گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوار سکوں بھی

گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوار سکوں بھیجینے کے لیے چاہیئے تھوڑا سا جنوں بھی یہ کیسی انا ہے مرے اندر کہ مسلسلدیکھوں اسے لیکن نظر انداز کروں بھی کھل کر تو وہ مجھ سے کبھی ملتا ہی نہیں ہےاور اس سے بچھڑ جانے کا امکان ہے یوں بھی ایسی بھی کوئی خاص تعلق

گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوار سکوں بھی Read More »

اتنا بے نفع نہیں اس سے بچھڑنا میرا

اتنا بے نفع نہیں اس سے بچھڑنا میراانجمن ساز ہوا ہے دل تنہا میرا سرنگوں ہونے نہیں دیتا یہ احساس مجھےمیں تو ٹوٹا ہوں مگر خواب نہ ٹوٹا میرا کون ہیں وہ جنہیں آفاق کی وسعت کم ہےیہ سمندر نہ یہ دریا، نہ یہ صحرا میرا ایک ہی لمحۂ موجود میں موجود ہوں میںاور اک

اتنا بے نفع نہیں اس سے بچھڑنا میرا Read More »