MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھر یاد اسے کرنے کی فرصت نکل آئی

پھر یاد اسے کرنے کی فرصت نکل آئیمت پوچھئے کس موڑ پہ قسمت نکل آئی کچھ ان دنوں دل اس کا دکھا ہے تو ہمیں بھیاس شخص سے ملنے کی سہولت نکل آئی آباد ہوئے جب سے ان آنکھوں کے کنارےدنیا جسے سمجھے تھے وہ جنت نکل آئی جو خواب کی دہلیز تلک بھی نہیں […]

پھر یاد اسے کرنے کی فرصت نکل آئی Read More »

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھےچلا تو سات سمندر کا سامنا تھا مجھے میں اپنی پیاس میں کھویا رہا خبر نہ ہوئیقدم قدم پہ وہ دریا پکارتا تھا مجھے زمانے بعد ان آنکھوں میں اک سوال سا تھاکہ ایک بار پلٹ کر تو دیکھنا تھا مجھے یہ پاؤں رک گئے کیوں بے نشان

یہیں کہیں کوئی آواز دے رہا تھا مجھے Read More »

دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے

دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہےیہ پھل بھی ہمیں نقل مکانی سے ملا ہے جو نام کبھی نقش تھا دل پر وہ نہیں یاداب اس کا پتا یاد دہانی سے ملا ہے یہ درد کی دہلیز پہ سر پھوڑتی دنیااس کا بھی سرا میری کہانی سے ملا ہے کھوئے ہوئے لوگوں کا سراغ

دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے Read More »

ہنگام شب و روز میں الجھا ہوا کیوں ہوں

ہنگام شب و روز میں الجھا ہوا کیوں ہوںدریا ہوں تو پھر راہ میں ٹھہرا ہوا کیوں ہوں کیوں میری جڑیں جا کے زمیں سے نہیں ملتیںگملے کی طرح صحن میں رکھا ہوا کیوں ہوں اس گھر کے مکینوں کا رویہ بھی تو دیکھوںتزئین در و بام میں کھویا ہوا کیوں ہوں گرتی نہیں کیوں

ہنگام شب و روز میں الجھا ہوا کیوں ہوں Read More »

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہےیہ دنیا اصل میں آرام کرنے کے لیے ہے محبت اور پھر ایسی محبت جو ہے تجھ سےچھپائیں کیوں یہ خوشبو عام کرنے کے لیے ہے کرے گا کون تجھ کو تیری بے مہری کا قائلیہاں جو بھی ہے تجھ کو رام کرنے کے لیے ہے یہ

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے Read More »

ترے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے

ترے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہےمیری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے کام جو عمر رواں کا ہے اسے کرنے دےمیری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھمیں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے آسماں سے کوئی

ترے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے Read More »

اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں

اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیںیوں ہے کہ ذرا خود کو سنبھالے ہوئے ہم ہیں اس بزم میں اک جشن چراغاں ہے انہی سےکچھ خواب جو پلکوں پہ اجالے ہوئے ہم ہیں کچھ اور چمکتا ہے یہ دل جیسا ستاراکن درد کی لہروں کے حوالے ہوئے ہم ہیں دل ہے کہ

اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں Read More »

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوںتمہارے زخم کو پہچانتا تو میں بھی ہوں نہ جانے کون سی آنکھوں سے دیکھتے ہو مجھےتمہاری طرح سے ٹوٹا ہوا تو میں بھی ہوں تمہی پہ ختم نہیں مہر و ماہ کی گردششکست خواب کا اک سلسلہ تو میں بھی ہوں تمہیں منانے کا مجھ کو

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں Read More »

چاند تاروں سے بھرا یہ آسماں دے جاؤں گا

چاند تاروں سے بھرا یہ آسماں دے جاؤں گاخود رہوں گا دھوپ میں اور سائباں دے جاؤں گا میرے اچھے ہم سفر تجھ کو بھی میں جاتے ہوئےراہ سے بھٹکا ہوا اک کارواں دے جاؤں گا ہیں زلیخائیں بہت کوئی بھی یوسف ہو تو میںمصر کے بازار میں اس کو دکاں دے جاؤں گا جس

چاند تاروں سے بھرا یہ آسماں دے جاؤں گا Read More »

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میںپھر بھی نہ بن سکا خبر اخبار‌ عشق میں جب مل نہ پایا اس سے مجھے اذن گفتگومیں اک کتاب بن گیا اظہار عشق میں قیمت لگا سکا نہ خریدار پھر بھی میںجنس وفا بنا رہا بازار عشق میں شاید یہی تھی اس کی محبت کی انتہامجھ کو

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں Read More »