MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اتنا بے نفع نہیں اس سے بچھڑنا میرا

اتنا بے نفع نہیں اس سے بچھڑنا میرا
انجمن ساز ہوا ہے دل تنہا میرا

سرنگوں ہونے نہیں دیتا یہ احساس مجھے
میں تو ٹوٹا ہوں مگر خواب نہ ٹوٹا میرا

کون ہیں وہ جنہیں آفاق کی وسعت کم ہے
یہ سمندر نہ یہ دریا، نہ یہ صحرا میرا

ایک ہی لمحۂ موجود میں موجود ہوں میں
اور اک لمحے کا ہونا ہے نہ ہونا میرا

دل میں سو تیر ترازو ہوئے تب جا کے کھلا
اس قدر سہل نہ تھا جاں سے گزرنا میرا

کیسے ترسیل سخن کی کوئی صورت نکلے
یہ زباں میری نہیں ہے نہ یہ لہجہ میرا

میں ابھی سیر جہاں بینی میں گم ہوں اشفاقؔ
آسماں دیکھ رہا ہے ابھی رستہ میرا

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم