MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ کوٸی دھوپ نہ سایہ نہ گھٹا آتی ہے

نہ کوٸی دھوپ نہ سایہ نہ گھٹا آتی ہےدشتِ ہجراں میں کہیں سے نہ صدا آتی ہے ہجر کی رُت ہے یہاں غم کی تپش رہتی ہےحَبس ہے اپنے ہی سانسوں کی ہوا آتی ہے قتل کرنے کے علاوہ اُنہیں آ تا کیا ہےیا لگانی اُنہیں ہاتھوں پہ حنا آتی ہے جب بھی اُٹھتی ہے […]

نہ کوٸی دھوپ نہ سایہ نہ گھٹا آتی ہے Read More »

وفا سے جیت بھی جائیں تو ہار جائیں گے

یہ لوحِ عِشق پے لکھا ہے تیرے شہر کے لوگوفا سے جیت بھی جائیں تو ہار جائیں گے وہ جِن کے ہاتھ میں کاغذ کی کشتیاں ہوں گیسُنا ہے چند وہی لوگ پار جائیں گے کتابِ ظرفِ مُحبّت پے ہاتھ رکھ کے کہوسوال جان کا آیا تو وار جائیں گے خلیل الرحمن قمر

وفا سے جیت بھی جائیں تو ہار جائیں گے Read More »

میرے پاس تم ہو

بھول جانے کا ہنر مجھ کو سکھاتے جائوجا رہے ہو تو سبھی نقش مٹاتے جائوچلو رسماً ہی سہی مڑ کر مجھے دیکھ تو لوتوڑتے توڑتے تعلق کو نبھاتے جائو کبھی کبھی یہ مجھے ستائےکبھی کبھی یہ رُلائےفقط میرے دل سے اترجائیے گابچھڑنا مبارک بچھڑ جائیے گامیں سمجھا تھا تم ہو، تو کیا اور مانگوں؟میری زندگی

میرے پاس تم ہو Read More »

آنکھ میں نم تک آ پہنچا ہوں

آنکھ میں نم تک آ پہنچا ہوںاُس کے غم تک آ پہنچا ہوں پہلی بار محبت کی تھیآخری دَم تک آ پہنچا ہوں اس کے درد سے فیض ملا ہےاِذنِ قلم تک آپہنچا ہوں سانسوں میں سنگیت نہیں ابسر سے سم تک آپہنچا ہوں ہاتھ بڑھا کر چھونے لگا ہوںدستِ اَلم تک آپہنچا ہوں ملکِ

آنکھ میں نم تک آ پہنچا ہوں Read More »

ستارے

یاد ہے پہلے روز کہا تھاپھر نہ کہنا غلطی دل کیپیار سمجھ کے کرنا لڑکیپیار نبھانا ہوتا ہےپھر پار لگانا ہوتا ہےیاد ہے پہلے روز کہا تھاساتھ چلو تو پورے سفر تکمر جانے کی اگلی خبر تکسمجھو یار خدا تک ہو گاسارا پیار وفا تک ہوگاپھر یہ بندھن توڑ نہ جاناچھوڑ گئے تو پھر نہ

ستارے Read More »

تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا – Teri ankho ky dariya ka utarna bhi zaroori tha

تیری آنکھوں کے دریا کااترنا بھی ضروری تھامحبت بھی ضروری تھیبچھڑنا بھی ضروری تھاضروری تھا کہ ہم دونوں طوافِ آرزو کرتےمگر پھر آرزووں کا بکھرنا بھی ضروری تھاتیری آنکھوں کے دریا کااترنا بھی ضروری تھابتاو یاد ہے تم کو وہ جب دل کو چرایا تھاچرائی چیز کو تم ے خدا کا گھر بنایا تھاوہ جب

تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا – Teri ankho ky dariya ka utarna bhi zaroori tha Read More »

عشق سے عقل کا فقدان خریدا ہم نے – Ishq se aqal ka fiqdan khareeda humne

عشق سے عقل کا فقدان خریدا ہم نےاور وہ بھی علی الاعلان خریدا ہم نے ہم نے پتھر بھی خریدا تو وہ آئینہ تھاکبھی یاقوت نہ مَرجان خریدا ہم نے بُھولنے کے لیے وہ ساعتِ پیمانِ الستوقت سے اِک نیا پیمان خریدا ہم نے شور اُٹھا تھا کہ نابود ہوا ہے کوئیجب ترے وصل کا

عشق سے عقل کا فقدان خریدا ہم نے – Ishq se aqal ka fiqdan khareeda humne Read More »

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے – Ghoom phir kar usi koochay ki taraf ayenge

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گےدل سے نکلے بھی اگر ہم تو کہاں جائیں گے ہم کو معلوم تھا یہ وقت بھی آ جائے گاہاں مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ پچھتائیں گے یہ بھی طے ہے کہ جو بوئیں گے وہ کاٹیں گے یہاںاور یہ بھی کہ جو کھوئیں گے وہی

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے – Ghoom phir kar usi koochay ki taraf ayenge Read More »

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے – Hum apne ap main rehte hain dum main dum jese

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسےہمارے ساتھ ہوں دو چار بھی جو ہم جیسے کسے دماغ جنوں کی مزاج پرسی کاسنے گا کون گزرتی ہے شام غم جیسے بھلا ہوا کہ ترا نقش پا نظر آیاخرد کو راستہ سمجھے ہوئے تھے ہم جیسے مری مثال تو ایسی ہے جیسے خواب کوئیمرا

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے – Hum apne ap main rehte hain dum main dum jese Read More »

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے – Kisi ke hijr main jeena mahal hogaya hai

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہےکسے بتائیں ہمارا جو حال ہو گیا ہے کہیں گرا ہے نہ روندا گیا ہے دل پھر بھیشکستہ ہو گیا ہے پائمال ہو گیا ہے سحر جو آئی ہے شب کے تمام ہونے پرتو اس میں کون سا ایسا کمال ہو گیا ہے کوئی بھی چیز سلامت

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے – Kisi ke hijr main jeena mahal hogaya hai Read More »