نہ کوٸی دھوپ نہ سایہ نہ گھٹا آتی ہے
نہ کوٸی دھوپ نہ سایہ نہ گھٹا آتی ہےدشتِ ہجراں میں کہیں سے نہ صدا آتی ہے ہجر کی رُت ہے یہاں غم کی تپش رہتی ہےحَبس ہے اپنے ہی سانسوں کی ہوا آتی ہے قتل کرنے کے علاوہ اُنہیں آ تا کیا ہےیا لگانی اُنہیں ہاتھوں پہ حنا آتی ہے جب بھی اُٹھتی ہے […]
نہ کوٸی دھوپ نہ سایہ نہ گھٹا آتی ہے Read More »