MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ترے خیال سے دنیا میں روشنی پھیلی

"ترے جمال سے دنیا میں روشنی پھیلی”ترے خیال سے دنیا میں روشنی پھیلی کوئی تو ہے جو چلاتا ہے کارخانے کواسی سوال سے دنیا میں روشنی پھیلی جسے خدا نے سراجِ منیر بتلایااسی کی آل سے دنیا میں روشنی پھیلی جو اپنے وقت کی تاریکیوں میں پیدا ہوااسی بلال سے دنیا میں روشنی پھیلی خدا […]

ترے خیال سے دنیا میں روشنی پھیلی Read More »

وہ جو خوشبو لگا کے جاتی ہے

وہ جو خوشبو لگا کے جاتی ہےپھر وہ ہی تو گلوں سے آتی ہے زلف سے باندھتی ہے رستوں کوبیڑیاں آنکھ سے بناتی ہے ہجر میں کون یاد رکھتا ہےدن ہے نکلا کہ رات جاتی ہے زخم کتنے لگے ہیں سینے پرمسئلہ یہ شماریاتی ہے عکس بینائی چھین لے جس کاوہ ہی صورت نظر کو

وہ جو خوشبو لگا کے جاتی ہے Read More »

اک نعت لکھوں سیدِ ابرار۔ اجازت

اک نعت لکھوں سیدِ ابرار۔ اجازت ہر مصرعے پہ ہو آپ کا دیدار۔ اجازت پلکوں سے ترا ہاتھ بٹانے کو ہوں حاضرجاروب کشِ روضہِ انوار ۔ اجازت جا پہنچوں ترے روضہِ پر نور پہ آقاکرتی ہے طلب۔ چشمِ طلب گار ۔اجازت سرکار کی گلیوں میں بھٹک جاوں میں آکرطیبہ کے گلی کوچہ و بازار اجازت

اک نعت لکھوں سیدِ ابرار۔ اجازت Read More »

تم ستاروں سے دوستی کر لو

تم ستاروں سے دوستی کر لورات گہری ہے۔ روشنی کر لو خاک بستر۔ پہاڑ کو تکیہآسمانوں کو۔ اوڑھنی کر لو دوستی میں تو زخم دیتے رہےاب زرا کھل کے دشمنی کر لو مان لو بات تم بہاروں کیشاخ حسرت ہری بھری کر لو بات مانوں نہ تم کسی کی مگردل جو کہتا ہے تم وہی

تم ستاروں سے دوستی کر لو Read More »

حسین سے بھی روابط ہیں انکا دعویٰ ہے – Hussain se bhi rawabit hain unka dawa hai

حسین سے بھی روابط ہیں انکا دعویٰ ہےیذید سے بھی پسٍ پشت ملنا جلنا ہے ذرا ذرا سے منافق تو سب ہی ہوتے ہیںوہ کھل کے مان رہا ہے چلو یہ اچھا ہے بیان خامیاں کرتا ہے منہ پہ کچھ ایسےگمان ہوتا ہے اک آٸینہ سا رکھا ہے وہ کھو گیا ہے مری فکرِ روزی

حسین سے بھی روابط ہیں انکا دعویٰ ہے – Hussain se bhi rawabit hain unka dawa hai Read More »

اک میں ہی نہیں باقی کی دنیا تو وہ ہی ہے

اک میں ہی نہیں باقی کی دنیا تو وہ ہی ہےکیوں شہر ہے ویران تو سنسان گلی ہے اک دم تو نہیں مدتوں یہ دل میں پلی ہےدنیا میں ہوا جو یہ بغاوت کی چلی ہے بند آنکھ کو کر لینے سے طوفاں کی مصیبتٹلتی ہے ٹلے گی نہ ٹلی تھی نہ ٹلی ہے باطل

اک میں ہی نہیں باقی کی دنیا تو وہ ہی ہے Read More »

"ترے جمال سے دنیا میں روشنی پھیلی”

"ترے جمال سے دنیا میں روشنی پھیلی”ترے خیال سے دنیا میں روشنی پھیلی کوئی تو ہے جو چلاتا ہے کارخانے کواسی سوال سے دنیا میں روشنی پھیلی جسے خدا نے سراجِ منیر بتلایااسی کی آل سے دنیا میں روشنی پھیلی جو اپنے وقت کی تاریکیوں میں پیدا ہوااسی بلال سے دنیا میں روشنی پھیلی خدا

"ترے جمال سے دنیا میں روشنی پھیلی” Read More »

مجھ کو معلوم تھا منزل کا پتا مجبوراً

مجھ کو معلوم تھا منزل کا پتا مجبوراًوہ مرے ساتھ بہت دور چلا مجبوراً آج تزئین چمن کرنا ضروری تھا بہتکر دیا شاخ سے پھولوں کو جدا مجبوراّ ایک جگنو تھا ادھر رات کی تاریکی تھیروشنی کرنے لگا بجھتا دیا مجبوراً آج وہ بزم میں دنیا کو دکھانے آیاجبر سے میں نےکہا اس نے سنا

مجھ کو معلوم تھا منزل کا پتا مجبوراً Read More »

اتنا سا ان کی بات کا لبِ لباب تھا

اتنا سا ان کی بات کا لبِ لباب تھابارش گھٹائیں بجلیاں رستہ خراب تھا اک مفلسی کے طاق میں جلتا ہوا دیاجو شخص اپنی ذات میں خود آفتاب تھا عرصہ دراز ہوگیا آیا نہ خواب میںوہ باپ جس کو دیکھنا حج کا ثواب تھا ہاتھوں کو ڈال کر ترے ہاتھوں میں چل دیےوہ کلپنا تھی

اتنا سا ان کی بات کا لبِ لباب تھا Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 2

تحریر شیخ زادی سارے راستے ماضی اسکے زہن کو الجھاتا رہا لیکن وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر بالاخر کام میں لگ گیا تھا اسکا آفس کا کمرہ بہت نفیس اور خوبصورت تھاشیشے کے دروازے سے اندر آؤ تو سامنے ہی میز تھی جس پر اسکا کمپیوٹر اور فائلز سلیقہ سے رکھیں تھیںسائڈ پر ایک

روزنِ تقدیر قسط نمبر 2 Read More »