MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

روزنِ تقدیر قسط نمبر 1

قسط نمبر 1 تحریر شیخ زادی وہ جو کھو ئی کھوئی اپنے خوابوں میں وہ جو جاگی جاگی راتوں میں بس خوش رہنے کا شوق ہے اس کو بس چاہے جانے کا ذوق ہے اس کو صبح کاوقت تھا وہ فجر کی نماز پڑھ کر مسجد عمر بن ابو الخطاب سے نکل رہا تھا سردی […]

روزنِ تقدیر قسط نمبر 1 Read More »

میرے ہر وصل کے دَوران مجھے گُھورتا ہے

میرے ہر وصل کے دَوران مجھے گُھورتا ہےاِک نئے ہجر کا اِمکان مجھے گُھورتا ہے میرے ہاتھوں سے ہیں وابستہ اُمیدیں اُس کیپُھول گرتے ہیں تو، گُلدان مجھے گُھورتا ہے آئینے میں تو کوئی اور تماشہ ہی نہیں !میرے جیسا کوئی اِنسان مجھے گُھورتا ہے اب تو یُوں ہے کہ گُھٹن بھی نہیں ہوتی مجھ

میرے ہر وصل کے دَوران مجھے گُھورتا ہے Read More »

رنگ و رَس کی ہَوَس اور بس

رنگ و رَس کی ہَوَس اور بسمسئلہ دسترس اور بس یُوں بُنی ہیں رَگیں جِسم کیایک نس، ٹس سے مس اور بس سب تماشائے کُن ختم شُدکہہ دیا اُس نے بس اور بس کیا ہے مابینِ صیّاد و صیدایک چاکِ قفس اور بس اُس مصوّر کا ہر شاہکارساٹھ پینسٹھ برس اور بس عمار اقبال

رنگ و رَس کی ہَوَس اور بس Read More »

ھوکا بجوکا

ھوکا بجوکابجوکا ڈرتا ہےبجوکا تنہا ہےبجوکا گھاس پھوس کا جسم سنبھالےکالے کوے پر مرتا ہےلیکن بات نہیں کر سکتااس پر ہے سکتا طارینرالا عشق ہو جیسے بھوسے کے اک ڈھیر پہ جلتا سگریٹ/چنگاریبجوکا جلتا ہےبجوکاپھٹے کوٹ کی جیب ہوا سے بھرتا ہےتو ہنستا ہے سب آس پاس کےپھول کپاس کے سونگھ سانگھ کےبجنر پن کے

ھوکا بجوکا Read More »

بچھو راجا

بچھو راجا ایک آتش فشاں میں کمرہ ہےاور کمرے میں سات سو بچھوایک بچھو کی پانچ سو ٹانگیںاور ٹانگوں میں خم ہزار ہزارسوچ کی سیڑھیوں سے کمرے میںایک لاغر وجود گرتا ہےکسمساتا ہے ڈنگ کھاتا ہےڈنگ کھاتا ہے مسکراتا ہےمسکراتا ہے زہر پیتا ہےزہر پیتا اور مرتا نئیںرقص کرتا ہے اور ڈرتا نئیںزہر اسکی رگوں

بچھو راجا Read More »

تین رنگوں سے مرے رنگ میں آئی ہوئی آگ

تین رنگوں سے مرے رنگ میں آئی ہوئی آگہے مرے چاروں طرف اپنی لگائی ہوئی آگ تم چراغوں پے جمی برف کے معبود چراغمیں اسی برف کے معبد سے چرائی ہوئی آگ لمس در لمس گھٹی روشنی تقسیم ہوئیدیپ سے دیپ جلا اور پرائی ہوئی آگ آگ میں صرف ہوئے میرے سنائے ہوئے شعرتو تمھیں

تین رنگوں سے مرے رنگ میں آئی ہوئی آگ Read More »

اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہے

اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہےپر نوچ کے اب قید سے آزاد کرے ہے چپ چاپ پڑا رہوے ہے بیمار تمہارانالہ ہی کرے ہے نہ وہ فریاد کرے ہے اے باد صبا ان سے یہ کہہ دیجیو جا کرپردیس میں اک شخص تمہیں یاد کرے ہے فرزانہ اجاڑے ہے بھرے شہروں کو

اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہے Read More »

بجھا بجھا کے جلاتا ہے دل کا شعلہ کون

بجھا بجھا کے جلاتا ہے دل کا شعلہ کوندکھا رہا ہے مجھی کو مرا تماشہ کون سبھی کے چہروں پہ مہر و وفا کا غازہ ہےکہوں یہ کیسے پرایا ہے کون اپنا خوشی کی بزم میں ہم رقص ہیں سبھی لیکنکرے گا پار مرے ساتھ غم کا دریا کون بہار آئی ہے لیکن کھلے ہیں

بجھا بجھا کے جلاتا ہے دل کا شعلہ کون Read More »

چاند ویران ہے صدیوں سے مرے دل کی طرح

چاند ویران ہے صدیوں سے مرے دل کی طرحزندگی غم ہے خلا میں مری منزل کی طرح کرۂ ارض ہے اک مرکز ہنگامۂ شوقبحر بے آب میں تہذیب کے ساحل کی طرح ذرۂ خاک سے ہے شعلۂ جوہر کی نمودجس نے سورج کو بھی دیکھا ہے مقابل کی طرح کل کے چنگیز و ہلاکو ہیں

چاند ویران ہے صدیوں سے مرے دل کی طرح Read More »

دولت حرف و بیاں ساتھ لیے پھرتے ہیں

دولت حرف و بیاں ساتھ لیے پھرتے ہیںہم محبت کا جہاں ساتھ لیے پھرتے ہیں اک تبسم پہ نہ جانا کہ ترے دیوانےغم کا اک کوہ گراں ساتھ لیے پھرتے ہیں جس پہ اک سانس کی تکرار سے بال آ جائےہم وہ شیشے کا مکاں ساتھ لیے پھرتے ہیں آندھیاں اس کو بجھانے کے لیے

دولت حرف و بیاں ساتھ لیے پھرتے ہیں Read More »