MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بے نمو خواب کا یہ بُور نہیں جاتا ہے

بے نمو خواب کا یہ بُور نہیں جاتا ہےآنکھ سے ہجر کا عاشور نہیں جاتا ہے تو نے خوشبو سے بھرے لوگوں کو مایوس کیاتو نے چھڑکا ہے جو کافور نہیں جاتا ہے کچے دھاگے سا تعلق ہے خبر ہے اس کودور جاتا ہے، مگر دور نہیں جاتا ہے منتظر رہتا ہے درویش یہیں صاحب […]

بے نمو خواب کا یہ بُور نہیں جاتا ہے Read More »

کِھل رہا ہے زمینِ بنجر میں

کِھل رہا ہے زمینِ بنجر میںاک سخن کا گلاب پتھر میں ایک چپ سی لگی ہے دونوں کوشور بھرنے لگا ہے بستر میں کر دی بے رنگ زندگی کی دھنکراکھ رکھی گئی مرے پر میں مٙیں جو رخصت ہُوا تو اس کے بعدکچھ بچے گا ترے بھرے گھر میں خود کو مہمانِ خاص سمجھا تھانام

کِھل رہا ہے زمینِ بنجر میں Read More »

تماشا گر نے بھی کیا تماشا لگا دیا ہے

تماشا گر نے بھی کیا تماشا لگا دیا ہےجو تیغ زن تھے انھیں کھلونا بنا دیا ہے ہمارے کاندھوں پہ کس نے کرگس بٹھا دیے ہیںہمارے سر سے ہُما کو کس نے اڑا دیا ہے یہ کس نے صبح و صبا کی خوشبو کا رستہ روکایہ کس نے اڑتے دھوئیں کے پیچھے لگا دیا ہے

تماشا گر نے بھی کیا تماشا لگا دیا ہے Read More »

جسم رنگیں قبا کی صورت ہے

جسم رنگیں قبا کی صورت ہےدل، مگر اک خلا کی صورت ہے چھوڑ رکھا ہے مانگنا ہم نےاب دعا، بددعا کی صورت ہے دورِ فرعون لوٹ آیا ہےہر کوئی یاں خدا کی صورت ہے شب گزرتی ہے جلتے بجھتے ہوئےجو دیا ہے، ہوا کی صورت ہے اک کھلی جیل اُس کی مرضی کیزندگی تو سزا

جسم رنگیں قبا کی صورت ہے Read More »

گرتی دیوار کو اِک ہات سنبھالے ہوئے ہے

گرتی دیوار کو اِک ہات سنبھالے ہوئے ہےکوئی تو ہے جو سب آفات سنبھالے ہوئے ہے کانچ جیسی مری ہر روز رگیں ٹوٹتی ہیںجوڑنے والی تری ذات سنبھالے ہوئے ہے کیا کروں ایک نئے خواب کی اے قوسِ قزحدل پرانے وہی صدمات سنبھالے ہوئے ہے چال پہ شاہ کی، جاں دے کے مقابل آیایہ پیادہ

گرتی دیوار کو اِک ہات سنبھالے ہوئے ہے Read More »

رستہ کوئی بچنے کا نکالا نہیں میں نے

رستہ کوئی بچنے کا نکالا نہیں میں نےآنے دیا سیلاب کو ٹالا نہیں میں نے اِس بار میں چپ چاپ ہوا کھیل سے باہراس بار تو سکہ بھی اچھالا نہیں میں نے میں آپ ہی ٹکرایا کیا پنجرے سے سر کواس بار پرندہ کوئی پالا نہیں میں نے دل مجھ سے کیے جاتا تھا ہر

رستہ کوئی بچنے کا نکالا نہیں میں نے Read More »

کیا منافع کسی بازار و دکاں سے آئے

کیا منافع کسی بازار و دکاں سے آئےہاں مگر اپنی طرف راہِ زیاں سے آئے عمرِ سرسبز پہ کیا طائرِ خواہش اترےتیر لہراتا ہوا باغِ جہاں سے آئے اپنے ہمزاد سے ذرے مرے ملنا چاہیںاُس ستارے سے کہو کاہکشاں سے آئے ایک دو پٙل کی ملاقات سرِ راہ بہتبوئے مجبوری ہمیں ہم نٙفٙساں سے آئے

کیا منافع کسی بازار و دکاں سے آئے Read More »

عشق سرمایہ تھا، نقصان کسی کا نہ ہوا

عشق سرمایہ تھا، نقصان کسی کا نہ ہواباغِ خوشرنگ جو ویران کسی کا نہ ہوا. . . . . . . . . . .لفظ میں راکھ رکھی، ہجر کمایا کس نےجیسا ہے میر کا دیوان کسی کا نہ ہوا. . . . . . . . . .مجھ سے دیوار تو کیا بننا تھی

عشق سرمایہ تھا، نقصان کسی کا نہ ہوا Read More »

یہ سانحہ بھی دیکھا ہے ہم نے نصیب سے

یہ سانحہ بھی دیکھا ہے ہم نے نصیب سےاس نے سلام بھیجا ہے ہم کو رقیب سے نازاں تھے اپنے حسن پہ گل یہ گلاب کےدیکھا نہیں تھا آپ کو جب تک قریب سے لے دیکھ سارے شہر میں چرچا ہے وصل کاکس نے کہا تھا راز اگل دے خطیب سے اب تو دیا جلانا

یہ سانحہ بھی دیکھا ہے ہم نے نصیب سے Read More »

اب تک ہمارے نور کے ہالے نہیں گئے

اب تک ہمارے نور کے ہالے نہیں گئےہم بجھ رہے ہیں پھر بھی اجالے نہیں گئے ہم ایسا ڈھونڈھتے ہو زمانے میں دوسراہم ایسے لوگ سانچے میں ڈھالے نہیں گئے چھوڑا ہے ہم نے باغ کو بلبل کو پھول کوہم لوگ گلستاں سے نکالے نہیں گئے ہجرت کی کلفتوں کی سزا ہم سے پوچھئےاب تک

اب تک ہمارے نور کے ہالے نہیں گئے Read More »